امپورٹڈ حکومت نے مہنگائی میں 5 گنا اضافہ کر دیا ہے، اسد عمر
اسد عمر نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے مہنگائی میں 5 گنا اضافہ کر دیا ہے۔
تفصیلت کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے 5 ماہ اور امپورٹڈ حکومت کے 5 ماہ میں معاشی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رجیم چینچ آپریشن کے معیشت پر بدترین اثرات مرتب ہو رہے ہیں، تحریک انصاف کے دور میں ترقی پزیر اور مستحکم ہوتی معیشت ڈوبنے لگی ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ آج کل معیشت انتہائی خطرناک صورتحال کی جانب بڑھ رہی ہے، کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کا معاہدہ ہونے کے باوجود حالات بہتر ہو جائیں گے، آئی ایم ایف کے معاہدے کے باوجود روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آئی اور مارکیٹ میں ہیجان ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقومی منڈیوں کو بھی پاکستان کے تیزی سے دیوالیہ ہونے کے خدشات لاحق ہیں، ہمیں موازنہ کرنا چاہیے عمران خان کی حکومت اور امپورٹڈ حکومت کے دوران بیرونی خطرات کیا درپیش رہے، عوام کو پتہ چلنا چاہیے کہ عمران خان نااہل تھے یا امپورٹڈ حکومت نااہل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب عمران خان وزیراعظم بنے تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر 9.8 ارب ڈالر تھے اور جب عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر 11.4 ارب ڈالر کے تھے لیکن جب امپورٹڈ حکومت آئی تو انکے پاس پہلے سے ہی 1.6 ارب ڈالر کے زائد ذخائر موجود تھے۔
اسد عمر نے یہ بھی کہا کہ ہماری حکومت آنے سے 5 ماہ پہلے 1.8 ارب ڈالر کا ماہانہ خسارہ ہو رہا تھا، جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو 5 ماہ پہلے 1.5 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، پی ڈی ایم کی حکومت کو ذخائر بھی زیادہ ملے اور خسارے کی رفتار بھی کم تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے اپنے پہلے 5 ماہ میں بیرونی خسارے میں 30 فیصد کی کمی کی، امپورٹڈ حکومت نے اپنے 5 ماہ میں صرف 7 فیصد بیرونی خسارہ کم کیا ، ہماری حکومت کے پہلے 5 ماہ میں اشیائے ضروریہ کی افراط زر 8.9 فیصد پر تھی، امپورٹڈ حکومت کے پانچ ماہ میں اشیائے ضروریہ کی افراط زر 45 فیصد سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے دور میں روپے کی قیمت 2 روپے بھی گرتی تھی تو ایک طوفان برپا کر دیا جاتا تھا، عمران خان کے دور میں پہلے پانچ ماہ میں روپے کی قدر میں 14 روپے کمی آئی، امپورٹڈ حکومت کے پہلے 5 ماہ میں روپے کی قدر میں 53 روپے کمی آئی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ جب ہماری حکومت کے پہلے 5 ماہ ختم ہوئے آئی ایم ایف کے معاہدے کے بغیر کریڈٹ سویپ ریٹ 3.3 فیصد تھا، پی ڈی ایم کی حکومت کے 5 ماہ میں کریڈٹ سویپ ریٹ 22.7 فیصد پر پہنچ چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت سے بہتر حالات ملنے کے باوجود امپورٹڈ حکومت کوئی بہتری نہ کر سکی، امپورٹڈ حکومت نے مہنگائی میں 5 گنا اضافہ کر دیا ہے، اس وقت عالمی منڈیوں میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہماری نسبت 7 گنا زیادہ ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود معیشت تباہ کر دی، ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کی عوام کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت لانے کا تجربہ بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے، سیاسی انتشار اور بحران کے خاتمے کے بغیر ملکی معیشت ٹھیک نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور عوام پر رحم کیا جائے، اب عوام کو ملکی فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔
Comments are closed.