مزارِ قائد کے قریب غیرقانونی تعمیرات کے کیس میں ایس بی سی سے ریکارڈ طلب
عدالت نے مزارقائد کےقریب غیرقانونی تعمیرات کے کیس میں ایس بی سی سے ریکارڈ طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں مزارقائد کے قریب عامل کالونی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے ڈائریکٹرایسٹ ایس بی سی اے کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور متعلقہ ریکارڈ کے ہمراہ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 980 گز کے پلاٹ پر صرف گراؤنڈ پلس ون عمارت بن سکتی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ گراؤنڈ پلس فور تعمیر ہوجانا بظاہرغیر قانونی ہے۔
نوید انجم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں گراؤنڈ پلس تھری کی تعمیرکی اجازت دی گئی ہے۔ جس کے بعد وکیل نے عدالت میں دستاویز پیش کیں۔
عدالت نے کہا کہ دستاویزات میں صاف نظر آرہا ہے کہ اصل منظوری کے بعد ہاتھ سے تبدیلی کی گئی ہے۔ ایس بی سی اے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف عملی اقدامات نہیں کر رہی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ لگتا ہے عمارتوں کےانہدام کا معاملہ نجی شعبے کو دینا پڑے گا۔
سندھ ہائی کورٹ نے سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے عدالتی حکم کی نقل ڈی جی ایس بی سی اے کو بھی بھیجنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں ملزم ظہیرکے خلاف کراچی سے کم سن لڑکی کے اغوا کے کیس میں عدالت نے ملزم نکاح خواں اور گواہ کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے حکم دیا کہ ملزم اصغرعلی اورغلام مصطفی کو جیل سے رہا کیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔
ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کی ضمانت منظورکرلی۔
Comments are closed.