کم عمربچی کے مبینہ اغوا سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی
سندھ ہائی کورٹ نے کم عمربچی کے مبینہ اغوا سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
عدالت نے ایم ایل او سے متعلق درخواست کی سماعت 6 ستمبر کو 10 بجے مقرر کردی اور مدعی کے وکیل جبران ناصر نے جواب کی کاپی ملزمان کے وکیل کو فراہم کردیں۔
سندھ ہائی کورٹ میں کم عمر بچی کے مبینہ اغوا سے متعلق کیس میں نکاح خواں غلام مصطفیٰ اور گواہ اصغر علی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے کہا کہ مدعی مقدمہ کی جانب سے متاثرہ بچی کے ایم ایل او کرانے سے متعلق درخواست دائرکی گئی تھی اس پر دلائل دیں۔
وکیل ملزماب نے جواب دیا کہ میرے پاس فائل نہیں ہے پہلے درخواست ضمانت کی سماعت کرلی جائے۔
وکیل مدعی مقدمہ جبران ناصر نے کہا کہ ہم نے درخواست کی کاپی ٹی سی ایس کی دفتر بھی پہنچانے کی کوشش کی مگروصول نہیں کی گئی۔ میں دونوں وکلا کو واٹس ایپ پر اپنا جواب ارسال کیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ چلیں پہلے درخواست ضمانت سن لیتے ہیں۔ جن کی درخواست ضمانت دائر کی گئی ہے وہ نکاح خواں اور گواہ ہیں؟
ملزمان کے وکیل نے جواب دیا کہ بچی نے شادی کی لاہور میں عدالت کے سامنے بیان بھی ریکارڈ کرایا۔ بچی نے 6 جون کو کراچی میں بیان ریکارڈ کرایا۔ بچی نے کہا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا میں اپنی مرضی سے گئی ہوں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ نے بچی کا 164 کا بیان لیا۔ ججز نے بچی سے پوچھا ہوگا اس نے کہا ہوگا میں اپنی مرضی سے گئی تھی ججز نے دستخط کردیے ہوں گے۔
عدالت نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں اس کیس میں مزید انکوائری کرائی جائے؟
وکیل ملزمان نے جواب دیا کہ ایک وجہ یہ بھی مگر کچھ مزید ایشوز بھی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ شادی پنجاب میں کی ہے۔
پراسیکیوٹر نے درخواست ضمانت پر اعتراضات لگا دیے۔
عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی؟
سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ ایک سنگین جرم ہے ملزمان کو ضمانت پرکیسے رہا کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے جواب دیا کہ اگر سنگین جرم ہے تو نکاح خواں اور گواہ کا اس سے کیا تعلق۔
وکیل ملزمان نے کہا کہ پنجاب میں اس جرم کی چھ ماہ اور سندھ میں دو سے تین سال سزا ہے۔ یہ شادی سندھ چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ کی خلاف ورزی تو ہوسکتی ہے مگرسنگین جرم نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ لڑکی کو کیا پتہ کہ اس کو اتنا پروٹوکول ملے گا انٹرنیٹ کا زمانہ ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے بیرون ملک سے بھی لڑکیاں پاکستان آرہی ہیں۔ لڑکیوں کا گھرسے نکل کر شادی کرنا بڑا مسئلہ ایسا کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ ہو۔ بڑے بڑے گھروں میں بھی اس طرح کے مسائل ہوتے ہیں لوگ خود بیٹھ کرمعاملات سلجھاتے ہیں یہ پھرعدالت حل کرتی ہے۔ یہ معاملہ ہیومین ٹریفکنگ کا تو نہیں لگتا۔
وکیل ملزمان نے کہا کہ 8 جون کو لڑکی کی عمرکا تعین ہو جس کے مطابق عمر 16 سے 17 سال کے درمیان آئی۔ معاملہ سپریم کورٹ بھی گیا بچی کے والد ہیں کہ بضد کہ بچی کی عمر 14 سال ہے۔ دوبارہ بچی کی عمر کا تعین ہوا تو عمر15 سے 16 سال آئی ہے۔
وکیل ملزمان نے مذید دلائل دیے کہ اگرکوئی خلاف ورزی ہے تو کم عمر کی شادی ہے کوئی اور جرم نہیں کیا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پہنورنےکہا کہ بچوں کا نام میڈیا پر اچھالا جاتا ہے یہ ایک جرم ہے کیا عزت رہ جاتی ہے۔ 1954 کے قوانین کے مطابق بھی بچیوں کے نام منظرعام پر نہیں آنے چاہیے۔ لڑکی کو پنجاب جاکر شادی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ 18 سال سے کم عمری کی شادی میں بہت سی مشکلات ہیں مذہبی معاملہ بھی ہے۔ لڑکی پنجاب کیسے گئی یہ تکلیف لڑکا بھی توکرسکتا تھا۔
وکیل ملزمان نے جواب دیا کہ لڑکا مستقل پنجاب کا رہائشی ہے۔
عدالت نے کہا کہ لڑکی کے ذہین میں یہ بات کس نے ڈالی کہ سندھ میں شادی کی تو مسئلہ ہو جائے گا۔ جب بچیاں شادی کرتی ہیں تو ان کو کیا معلوم کہ سندھ چائلڈ ریسٹرین میرج ایکٹ بھی ہے۔ کوئی اگر کہے کہ میں سوئٹرز لینڈ میں مر جاؤں گا کچھ نہیں ہوگا کہیں اور مروں گا، ڈاکٹرز وغیرہ سب جیل جائیں گے۔ یہ بتایا جائے کہ بچی کو اتنی معلومات کہاں سے ملی۔ کیا بچی کو پنجاب جا کرمشورہ وکلاء نے دیا تھا۔
وکیل ملزمان نے کہا کہ بچی کو کسی نے ایسا مشورہ نہیں دیا روزانہ کی بنیادوں پرایسے کام ہورہے ہیں۔
جسٹس صلاح الدین پہنورنے کہا کہ ویسے بچی خود کہ رہی ہے کہ وہ خود گئی تھی کسی نے اغوا نہیں کیا۔ یہ روزانہ حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، ملتان میں یہ کام ہورہے ہیں۔ یہ المیہ ہے اتفاق سے ملتان سب سے پہلے نمبر پر ہے اس کے بعد سکھر میں ایسے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ اس طرح شادی نہیں ہونی چاہیے مگر اس قسم کے مقدمات جلد ختم ہو جاتے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب دو سال بعد بچی آئے گی دو سال بعد کہے گی مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ اگر ہم یہ کہ دیں کہ 15 دن میں بچی کا بیان ریکارڈ کریں تو پھر کیا ہوگا۔ اگر ٹرائل کورٹ کو فرد جرم عائد کرنے کا کہ دیا جائے تو۔ بچی کا ایک ہفتے بعد بھی بیان ریکارڈ کیا جا سکتا ہے ۔
وکیل مدعی نے کہا کہ چالان میں 6 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا ہے ان کے اوپر کاروائی ہونی ہے۔ بچی کو اغوا کرنے کے بعد شادی کی گئی ہے۔ اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے تو اسکے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر اغواء میں اسکی بچی کی مرضی بھی شامل ہے اسکے بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔
عدالت نے کہا کہ لڑکی کی عمر چاہے کوئی بھی ہو اگر وہ کہہ دیتی ہے کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا تو پھر کیا ہوگا۔
وکیل مقدمہ نے کہا کہ مختلف عدالتوں کے حکم نامے ریکارڈ پر موجود ہیں کم عمر بچیوں کے بیان کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔
عدالت نے بچی کے ایم ایل او کرانے اور درخواست ضمانت کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنے کے بعد دوبارہ سماعت کی اورفریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزم کی درخواست ضمانت پر تو دلائل بعد میں بھی ہوجائیں گے ایم ایل او بہت ضروری ہے۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ وہ بھی سن لیں گے پہلے درخواست ضمانت پر دلائل دیں۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ لوگ محض بچی کے بیانات پر انحصار کررہے ہیں، بتایا گیا بچی نے یہ بتایا اور عدالت میں یہ بیان دیا۔ انکا کہنا ہے علی اصغر اور مصطفیٰ اغواہ میں براہ راست ملوث نہیں۔
جبران ناصرایڈووکیٹ نے اس نوعیت کے دیگر کیسز کے حوالہ جات عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا کردار سوسائٹی کے خلاف جرم ہے ضمانت کے حقدار نہیں ہیں۔ مرکزی ملزمان کے سی ڈی آر اور اعتراف جرم بھی ثابت کرتا ہے، اغوا کے وقت وہ کراچی میں تھے۔
مدعی مقدمہ نے کہا کہ سندھ پولیس جب ملزمان کو گرفتار کرنے لاہور گئی تو وہ بھاگ کر کراچی آگئے۔ پولیس دونوں ملزمان کو کراچی سے گرفتار کیا۔ نکاح خواں نے جرم کو چھپانے کے لیے کسی یوسی میں نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں کرایا۔ ملزم علی اصغر مرکزی ملزم شبیر کا قریبی ساتھی ہے۔ ملزم شبیراغوا کے وقت کراچی میں موجود تھا۔ اگر ملزمان کو ضمانت پر چھوڑا گیا تو ان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ کیس میں فردجرم عائد ہونا باقی ہے۔
جسٹس صلاح الدین پہنورنے کہا کہ پہلے بھی آپ لوگوں نے بہت وقت لے لیا، اس درخواست کی سماعت کل کرلیتے ہیں۔
عدالت نے ایم ایل او سے متعلق درخواست کی سماعت 6 ستمبر کو 10 بجے مقرر کردی اور مدعی کے وکیل جبران ناصر نے جواب کی کاپی ملزمان کے وکیل کو فراہم کردیں۔
Comments are closed.