پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کیا جانا سازش کاروں کا ہدف تھا، عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کیا جانا سازش کاروں کا ہدف تھا۔

تفصیلات کے مطابق معاشی و اقتصادی امور کے نامہ نگاروں نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ ملاقات کی جس میں ملکی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال، تحریک انصاف کی معاشی حکمت عملی اور آئندہ کے اہداف پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے شریکِ گفتگو صحافیوں کے سوالات کے مفصل جوابات دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے غیر ملکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو نے مارکیٹ کو نہایت منفی پیغام بھیجا ہے، مئی میں نشاندہی کر دی تھی کہ پاکستان دیوالیہ پن کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، مقتدرہ کو بروقت متنبہ کیا تھا کہ معیشت سیاسی عدمِ استحکام کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

عمران خان نے کہا کہ سازش کے نتیجے میں لائے جانے والوں کی معاشی صورتحال سنبھالنے کی یکسر کوئی تیاری نہ تھی، پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کیا جانا سازش کاروں کا ہدف تھا، بغیر تیاری کے مسلط ہونے والوں کا ہدف اپنی 11 سو ارب کی چوری بچانا اور اپنے مقدمات کا خاتمہ تھا، امپورٹڈ حکومت نے جو ایک ہی کام خوبصورتی سے کیا ہے وہ نیب قانون میں ترمیم اور اپنی چوری بچانے کا بندوبست ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیٹف پر قانون سازی کا مرحلہ آیا تو ان لوگوں نے این آر او کے حصول کیلئے زور لگایا، عالمی منڈی میں تیل ہمارے دور کے مقابلے میں نصف قیمت پر تھا جب اسحٰق ڈار 20 ارب ڈالرز کا سب سے بڑا خسارہ چھوڑ کر گیا، آج پھر اس نام نہاد ”جینئس“ کو بلوایا جا رہا ہے جو ملک کو دیوالیہ پن کی دہلیز پر چھوڑ کر گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے دور کا پہلا سال معیشت مستحکم کرنے اور اگلے دو سال کورونا کے اثرات سے عوام اور معیشت کو بچاتے گزرے، تیسرے اور چوتھے سال معاشی نمو بالترتیب 5.7 اور 6 فیصد تک پہنچی، سازش سے ہماری حکومت کا خاتمہ نہ کیا جاتا تو کبھی یہ حالات پیدا نہ ہوتے جن کا آج سامنا ہے، موجودہ معاشی تباہی کی اصلاح کا نکتۂ آغاز سیاسی استحکام ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت کی بحالی کی کوئی تدبیر مؤثر ثابت نہ ہو گی، سیاسی استحکام کا دروازہ صاف شفاف انتخابات سے کھلے گا، مقتدرہ سے بہترین تعلقاتِ کار تھے، ابھی حزب اختلاف کا حصہ ہیں، مقتدرہ سے تعلقات حکومت کیلئے اہم ہوتے ہیں، تحریک عدمِ اعتماد کے بعد منڈی سجا کر ضمیروں کی بولیاں لگائی گئیں مگر کسی نے نوٹس نہ لیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دیوالیہ پن کے اثرات سے نکلنے میں مدد دینے والے بھاری قیمت کا تقاضا کریں گے، تباہ حال معیشت بہرحال ہماری خودمختاری کیلئے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، سزا ملنے کا یقین قائم کئے بغیر بدعنوانی کا انسداد ممکن نہیں، آمدن اور دولت کی پیداوار بڑھانے کیلئے صنعت و ذراعت کی ترقی اہم ہے، آئندہ اقتدار ملا تو صنعت کو زیادہ مراعات دیں گے اور سمندرپار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد خارجہ پالیسی کی راہ میں مشکلات آتی ہیں، خارجہ پالیسی اپنے لوگوں کے مفادات کے تابع مرتب کی جاتی ہے، ہمیں نہ ہٹایا جاتا تو امریکہ سے بھی بات کر سکتا تھا، کشمیریوں کی ریاستی حیثیت کے خاتمے کے باوجود ہندوستان سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش اہل کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ غداری کے مترادف ہے، مودی کبھی پاکستان سے بات چیت میں سنجیدہ نہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سقوط بی جے پی کی خواہش اور دیرینہ عزم ہے، اب پاکستان ایسے نہیں چلے گا جیسے اب تک چلایا جاتا رہا ہے، مستحکم حکومت کا قیام ناگزیر، نظامِ حکومت میں اصلاحات نہایت ضروری ہیں، بھرپور تیاری کر رہے ہیں، اہداف کے ساتھ ان کے حصول کیلئے محنت کرنے والی ٹیم بھی تیار کر رہے ہیں۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.