ڈالر کو روکے رکھنے سے ہماری برآمدات گریں، شوکت ترین

شوکت ترین نے کہا ہے کہ اقتصادی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب اسحاق ڈار گئے تو شاہد خاقان عباسی اور مفتاع نے پالیسی تبدیل کردی، نیب ترامیم کی وجہ سے اسحاق ڈار صاحب واپس آگئے۔

شوکت ترین نے کہا کہ اقتصادی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے جبکہ سیاسی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ فوری صاف و شفاف انتخابات کروائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کو روکے رکھنے سے ہماری برآمدات گریں، اس وجہ سے برآمدات میں تین چار ارب ڈالر اضافہ ہوا۔

سابق وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا اسی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف نے کڑی شرائط عائد کیں۔

انہوں نے کہا کہ 22/2021 میں معاشی شرح نمو بڑھی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر ٹیکس محصولات جی ڈی پی برآمدات بھی بڑھیں۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ کورونا کے باوجود معاشی صورتحال بہتر رہی، یہ سب کچھ ہم کر رہے تھے رجیم چینج آگیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسچینج ریٹ 160 سے 240 تک جا پہنچا ہے، مہنگائی 15 فیصد سے 29 فیصد پر پہنچ چکی ہے جبکہ بجلی گیس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے مزید کہا کہ جسکی انکم 20 ہزار ہے اسے 24 ہزارکا بل آرہا ہے جبکہ اشیا خردونوش کی قیمتیں بھی دوگنا ہو گئی ہیں۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.