پچھلی حکومت نے ہماری خارجہ پالیسی کا بیڑا غرق کیا، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے آڈیو لیکس کے معاملے پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر اہم ملاقاتیں ہوئیں جبکہ چین اور روس کے صدور سے ملاقاتیں ہوئی، شنگھائی کانفرنس اور نیویارک میں ہونے والی ملاقاتوں پر میڈیا کو اعتماد میں لینا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچائی جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی رہنماوں نے پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران بھی عالمی رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں، عالمی رہنماوں کو پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن سے ملاقات میں پاکستان سے ہمدردری اور امداد پر شکریہ ادا کیا جبکہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کیا اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بھی بھرپور مذمت کی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیلاب سے 30ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصانات ہوئے ہیں جبکہ سیلاب سے 1600سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام پہلوؤں کے حوالے سے بھرپور پاکستان کا موقف پیش کیا ہے، مخلوط حکومت کی کاوشوں سے پاکستان تنہائی کے دور سے نکل آیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس تنہائی نے پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے، اس تنہائی کی وجہ پچھلی حکومت ہے جس نے ہماری خارجہ پالیسی کا بیڑا غرق کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آڈیو لیک سنجیدہ معاملہ ہے، عالمی لیڈر بات کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے کہ یہاں بات کرنی ہے یا نہیں، آڈیولیک کے معاملے کی تحقیقات ہوں گی۔
شہباز شریف نے آڈیو لیکس کےمعاملے پر اعلی سطح کی کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر اعلی سطح اختیاراتی کمیٹی بنا رہا ہوں
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے کسی قسم کی کوئی سفارش نہیں کی جبکہ 1997سے لیکر آج تک تمام بیرونی دوروں کے اخراجات خود ادا کیے، آڈیو لیکس کے حوالے سے حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہیرےجواہرات کی پیشکش کی آڈیوز بھی موجود ہیں جبکہ دوست ملک سے آئے توشہ خانہ کے کروڑوں روپے کے تحائف بھیج دیئے گئے، عمران خان نے تحفے میں آئی گھڑیاں بھی اسلام آباد میں بھیج دیں، ہم عوام کے فیصلے کا احترام کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چار سال میں انہوں نے پاکستان کو تباہ وبرباد کر دیا، ہر چیز انہوں نے خود کی اور الزام ہم پر لگایا گیا، چینی اسکینڈل اربوں کا ہے،تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کہاں ہے؟
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ شخص پاکستان کی وجود کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے، عمران خان کی ہمشیرہ کو ایف بی آر سے این آر او کس نے دلوایا؟
وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے بہت محنت کی ہے، پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، مفتاح اسماعیل نے خود کہا کہ میں استعفی دینا چاہتا ہوں جبکہ اسحاق ڈار بھی تجربہ کار آدمی ہیں ،مالیاتی امور کے ماہر ہیں، انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے۔
Comments are closed.