اسد قیصر ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسد قیصرممنوعہ فنڈنگ کیس میں عدالت نے  فریقین کے دلائل مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔ 

تفصیلات کے مطابق پشاورہائی کورٹ میں سابق اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصرکی جانب سےایف آئی اے کے دائرہ اختیار کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر گوہرخان نے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایف آئی اے کو انکوائری کا نہیں کہا۔

بیرسٹرگوہرخان نےدلائل دیے کہ عدالت نے ایف آئی اے کے دائرہ اختیار پر 6 سوالات پوچھے۔ عدالت نے انکوائری پر سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے انکوائری کا کہا؟ تو ایف آئی اے کے پاس جواب نہیں ہے۔ یہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا کیس ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامرجاوید نے کہا کہ کیبنٹ نے فیصلہ کیا اس کے بعد ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی۔ پی ٹی آئی نے جو اکاؤنٹس تسلیم نہیں کیے، ان کی انکوائری ضروری ہے کہ یہ کس کے اکاؤنٹس ہیں، پیسے کہاں سے آئے۔

عامرجاوید نے مؤقف اپنایا کہ وفاقی حکومت کے پاس ایف آئی اے ہی ادارہ ہے جو اس طرح کے کیسز کی انکوائری کرسکتا ہے۔

پشاورہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس ککا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسد قیصر کے وکیل بیرسٹر گوہرعلی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاقی حکومت نے ایف آئی اے کو انکوائری کا جو حکم دیا ہے وہ غلط ہے۔

وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کی بغیر انکوائری غیرقانونی ہے، اگر فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو سپریم کورٹ جائیں گے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.