پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ اور دنیا کو بتایا ہے کہ موسمی اثرات کی وجہ سے جن سیلابی تباہ کاروں کا پاکستان کو سامنا ہے کل یہ سانحہ کسی اور ملک کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

شہباز شریف نےکہا کہ جنرل اسمبلی میں شریک عالمی رہنمائوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت کیلئے لچک دار انفراسٹرکچر اور موافقت کیلئے ایک ساتھ کھڑے ہوں اور اس کیلئے وسائل اکٹھے کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے فوری ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے ملنے والی امدادکو انتہائی مضبوط اور شفاف طریقہ کار کے تحت ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جائے گا جبکہ بین الاقوامی معروف کمپنیوں کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

اپنے بیان میں شہباز شریف کا افغانستان کے حوالے سے کہنا تھا کہ طالبان کے پاس دوحہ معاہدے کی پاسداری کرکے لوگوں کیلئے امن اورترقی کو یقینی بنانے کا ایک سنہری موقع ہے، افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے، گزشتہ حکومت نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ سب غیر ضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کیلئے نقصان دہ تھا، یہ سب کچھ پاکستان کے عوام کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے تک پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور دیگر شرائط کو موخر کرنے کی اپیل کی، اس کے پاکستان کی معیشت اورعوام پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ زرعی زمین کی تباہی کی وجہ سے پاکستان کو تقریبا دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑ سکتی، ملک کو کھاد کی ضرورت ہے کیونکہ کارخانے بند ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ بھارت کو سمجھنا چاہئے کہ جب تک کشمیر کا سلگتا ہوا تنازع پرامن مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا ہم امن سے نہیں رہ سکتے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.