غیرمسلح ہوکر احتجاج ریکارڈ کرائیں تو مکمل تعاون بھی کیا جائیگا، رانا ثناء اللہ
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ غیرمسلح ہوکر آئیں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں تو حکومت بھی مکمل تعاون کرے گی اور سیکیورٹی بھی فراہم کی جائیگی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج کرنےآتےہیں توعدالت کی مختص جگہ پر کریں تو احتجاج کے لیے بیٹھنےکی جگہ بھی دیں گے تمام سہولتیں بھی دیں گے اسکے علاوہ سیکیورٹی کے ساتھ کھانے پینے کی فراہمی بھی ممکن بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج میں مسلح لوگوں کو لایا جائے گا، ریاست پر چڑھائی کی جائے گی اور یڈزون جائیں گے تو تو اسی انداز سے روکا جائے گا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلح جتھے کوروکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں کو لانا پڑے گا جس کے لئے ہمارے پاس رینجرز، ایف سی، اسلام آباد پولیس اورسندھ سے 10 ہزار کا ڈبل نمبر موجود ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 25 مئی کوآنے والے لوگ مسلح تھے جس کا اعتراف خود عمران خان نے کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مسلح جتھے کی صورت میں آنے والا ذمہ دار ہوتا ہے، دفاع کرنے والا ذمہ دار نہیں ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ اپنی تیاری چیک کر لے اور ہم بھی اپنی تیاری چیک کر لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تبدیلی لانا کوئی مشکل نہیں ہے تاہم پنجاب حکومت کا جو رویہ ہے، اس میں آئینی و سیاسی تبدیلی لایا جانا ضروری ہے اور پنجاب میں گورنر راج کا فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ ہو جائے تو ہمارے ساتھ دس پندرہ لوگ رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار آئندہ ہفتے میں واپس آ رہے ہیں اور معاشی ٹیم کو لیڈ کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ حکومت میں تھے تو مہنگائی تھی لیکن بیانیہ ہمارے خلاف تھا اب ہم حکومت میں ہیں اور بے شک مہنگائی ہے لیکن وزیراعظم پرعزم ہیں کہ عوام کو ریلیف دے سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے غلط معاہدہ کیا اور پھر جاتے ہوئے قیمتیں کم کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کر گئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہوتا اور ہم اپنی سیاست بچانے کی کوشش کرتے تو ملک کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا لیکن ہم نے ملک و قوم کو سوچا اور اپنی ذاتی سیاست کا نہیں سوچا جس سے دوسروں کو اپنی مقبولیت کا کہنے کا موقع ملا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم مہنگائی کو کم کرنے کے قریب تھے کہ سیلاب کی قدرتی آفت نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے لیکن وزیراعظم نے دنیا کے ساتھ کامیاب ڈائیلاگ کیا ہے اور دنیا احساس ذمہ داری کرے تو ہم مشکلات پر قابو پا لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی وقت پر اور اپنے طریقہ کار کے مطابق ہو گی لیکن اگر پریشر لے کر حساس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی قبل از وقت کی گئی تو وہ تو اس ادارے کی تباہی والی بات ہے، یہ غلط رواج ڈالا جا رہا ہے، اس کو یہیں دفن کرنا ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف پر پارٹی فیصلہ مسلط نہیں کر سکتی، پارٹی کی تنظیم سازی ان ہی ہدایت پر ہو رہی ہے، پارٹی نے انہیں درخواست کی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کو لیڈ کریں جس کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 انتخابات کا سال ہوگا جس کے لئے تیاری اکتوبر سے شروع کی جائیگی، مریم نواز اور حمزہ شہباز کے ہمراہ میں اور دیگر صوبائی عہدیدار ٹور کر کے سروے کرینگے تاکہ آئندہ انتخابات کے لئے پارٹی کے پاس بہتر رہنمائی ہو سکے جس کے لئے ہم 15 اکتوبر سے اس کو شروع کر کے دسمبر تک اس پروگرام کو مکمل کر لیں گے۔
Comments are closed.