12 سالہ بیٹے کو زندہ جلانے کا کیس، ملزم باپ عدالت میں پیش
12 سالہ بیٹے کوزندہ جلانے کے کیس میں ملوث ملزم باپ عدالت میں پیش کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی عدالت میں پڑھائی نہ کرنے پرباپ کی جانب سے 12 سالہ بیٹے کو زندہ جلانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
پولیس نے گرفتارملزم باپ نذیر خان کو عدالت میں پیش کردیا جس کے بعد عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اورآئندہ سماعت پرتفتیشی افسرسے کیس کا چالان طلب کر لیا۔
وکیل مدعی شہریارعلی کٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے تفتیشی افسر کو رپورٹ مکمل کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزم نے اپنے بیٹے کو آگ لگا کر قتل کیا تھا۔
مقتول کی والدہ نے کہا کہ ملزم نذیرپہلے بھی بیٹے کو آگ لگانے کی دھمکیاں دے چکا تھا۔ میں اپنے بیٹے کا کیس ہر حال میں لڑوں گی۔ ورنہ روز محشر میں بیٹا مجھ سے پوچھے گا۔
پولیس کے مطابق پڑھائی نہ کرنے پر باپ نے 12 سالہ شہیر پر مٹی کا تیل چھڑک کرآگ لگادی تھی۔ ملزم کے خلاف اس کی اہلیہ اقبال مارکیٹ تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ بچے نے اپنے والد سے پتنگ اڑانے کی ضد کی تھی۔
پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب باپ نے بچے سے پڑھائی کا پوچھا تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکا جس پر باپ غصے میں آ گیا تھا۔
دوسری جانب کراچی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن شرقی کی عدالت میں کم عمربچی کے مبینہ اغوا کے کیس میں مرکزی ملزم ظہیر،شبیر و دیگرعدالت میں پیش ہوئے۔
فاضل جج کی رخصت کے باعث سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
مقدمے میں ملزم ظہیر، شبیر سمیت چار ملزمان ضمانت پر رہا ہیں جبکہ مقدمے میں 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔
مبینہ کمسن مغویہ شیلٹر وم میں ہے۔ ملزمان کے خلاف الفلاح تھانے میں مقدمہ درج ہے۔
Comments are closed.