شہزاد اکبرکی ویڈیولنک کےذریعےشاملِ تفتیش ہونےکی درخواست پرفریقین کونوٹس
عدالت نے شہزاد اکبرکی ویڈیولنک کے ذریعے شاملِ تفتیش ہونے کی درخواست پرفریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم کے مشیربرائے احتساب شہزاد اکبرکے خلاف نیب تحقیقات کے معاملے پرشہزاد اکبرکی ویڈیو لنک کے ذریعے شامل تفتیش ہونے کی درخواست پر سماعت ہوئے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب طاہر نے کیس کی سماعت کی۔
شہزاد اکبر کی جانب سے بیرسٹر قاسم ودود عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت کو بتایا کہ نیب نے حکومتی ایما پر میری خلاف سیاسی بنیادوں پر انکوائری شروع کی۔
بیرسٹر قاسم ودود نے مؤقف پیش کیا کہ انکوائری نیشنل کرائم ایجنسی یوکے اور بحریہ ٹاؤن کی سول سیٹلمنٹ پرہے۔ نیب نے نوٹس بھیجا، انھیں بتایا کہ ویڈیو لنک پر بیان دے سکتے ہیں۔ نیب کی جانب سے اس پیشکش کا جواب نہیں دیا گیا۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ نیب کو ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کا موقع دینے کی ہدایت کی جائے اورنام ای سی ایل سے نکالنے کے احکامات بھی دیے جائیں۔
لاہورہائی کورٹ نےفریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس میں عمران خان اور پرویز خٹک کی بریت کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی۔
وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عزرا بتول کاظمی عدالت پیش ہوئیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی جانب سے تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کی۔
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی استدعا پرسماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان سمیت دیگر کو بری کردیا تھا جبکہ وفاق نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر رکھی ہے۔
Comments are closed.