الیکشن کمیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے، علی موسیٰ گیلانی
سابق رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ جب سیٹ خالی ہوتی ہے تو 60 دن کے اندر الیکشن ہونا لازمی ہوتا ہے، ہم نے جلسے اس لیے نہیں کروائے کیونکہ پارٹی ورکرز سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف تھے، الیکشن ملتوی کرنے کی سمجھ نہیں آتی،
ان کا کہنا تھا کہ 22 ستمبر سے پہلے پہلے الیکشن ہونا لازمی ہے، یہ عدلیہ کو بتایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں امن و امان برقرار ہے، پولیس طلب کی گئی جو پہنچ چکی تھی، بیلٹ پیپرز چھپ چکے تھے۔
علی گیلانی نے کہا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن سے بدھ کو جواب طلب کر لیا ہے، عمران خان صرف باتیں کر رہے ہیں کہ ہم الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، 11 تاریخ کو عوام این اے 157 کا فیصلہ سنا دیتی، تحریک انصاف کی دوغلی پالیسی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ویسے بڑا شور مچاتی ہے اب الیکشن ملتوی پر بھی شور مچائے۔
انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی بالادستی کے لیے یہ الیکشن کروائے جائیں، عدلیہ تمام پٹیشن کو ایک ہی نظر سے دیکھے، پی ٹی آئی کے کیس اور نظر سے نہ دیکھے جائیں۔
علی گیلانی نے کہا کہ جہاں پر سیلاب نہیں ہیں وہاں الیکشن ہونا چاہیے، اگر اس اتوار نہیں تو اگلے اتوار الیکشن کروائے جائیں۔
Comments are closed.