پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں شامل ہے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے سیلاب سے متاثرہ آبادی کی بحالی اور سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو کے لیے حکومت پاکستان کی منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقعے پر وزیر اعظم نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کی بروقت مدد کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق حکمتِ عملی بنانے اور تخفیف کے مختلف منصوبوں سمیت مستقبل میں موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تشکیل دینے کے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران شہباز شریف نے حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، بین الاقوامی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں 33 ملین سے زیادہ متاثرین کے لیے کی جانے والی وسیع امدادی کوششوں کا ذکر بھی کیا۔
وزیر اعظم نے پاکستان کے فلڈ ریسپانس پلان کی فنڈنگ کے لیے اقوام متحدہ کی 160 ملین ڈالر کی “فلیش اپیل” سمیت بین الاقوامی امداد کو متحرک کرنے کے لیے سیکرٹری جنرل کی بھرپور حمایت کو سراہا اور سیکرٹری جنرل کے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے دنیا بھر میں زبردست پیغام رسانی کی بھی تعریف کی جس میں سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے تعلق کو اجاگر کیا گیا۔
وزیر اعظم نے اس موقعے پر کہا کہ پاکستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی قدرتی آفت کا نتیجہ ہے، سیکرٹری جنرل گوتریس نے اس مشکل وقت میں پاکستان کا دورہ کر کے پاکستانی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی قیادت اور بروقت مدد نے تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والے سنگین چیلنجوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی کاربن کے 1 فیصد سے بھی کم اخراج کے ساتھ پاکستان گلوبل وارمنگ کے لیے سب سے کم ذمہ داروں میں سے ایک ملک ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی انصاف کے جذبے کے تحت پاکستان کو عالمی برادری خصوصاً صنعتی ممالک کی طرف سے اس موسمیاتی آفت سے نمٹنے، بحالی اور تعمیر نو کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔
ملاقات کے دوران سیکرٹری جنرل نے پاکستان کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے لیے اپنی بے پناہ تعریف کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پاکستانی عوام کی طرف سے اپنے ہم وطنوں کی مدد کرنے اور کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی میں ان کی فراخدلی کے گواہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انھیں اس سیلاب سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر بے حد افسوس ہے اور کہا کہ اور کہا کہ بحالی اور تعمیر نو کے لیے درکار بڑے پیمانے پر تعاون کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔
سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محض یکجہتی کا نہیں بلکہ انصاف کا سوال ہے،
سیکرٹری جنرل گوٹیرس پاکستان میں تاریخی بارشوں اور سیلاب کے تناظر میں یکجہتی کے لیے دو روزہ دورے پر پاکستان ہیں۔
وزیراعظم اور سیکرٹری جنرل نے بعد ازاں نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (NFRCC) میں بریفنگ میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ سیکرٹری جنرل اپنے دورے کے دوران سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کے جائزے کیلئے بھی جائیں گے۔
Comments are closed.