ڈرگ کورٹ نے پرائیویٹ ہیلتھ مافیا کے خلاف بڑا فیصلہ سنا دیا

عدالت نے بے لگام پتھالوجی لیبارٹریز کے لیے ٹیسٹوں کی فیسیں مقررکرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے پتھالوجی لیبارٹریزکیلئے مقررکردہ ریٹ سے تجاوزکرنے پر سزائیں مقررکرنے اورپرائیویٹ لیبارٹریز کیلئے ٹیسٹوں کی قیمتیں مقرر کرنے کیلئے باقاعدہ اتھارٹی کے قیام کا بھی حکم دے دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری ہے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

عدالت نے سیکریٹری صحت پنجاب کو 24 اکتوبر کو قانون سازی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے اورچیئرمین ڈرگ کا فیصلہ رجسٹرارلاہورہائی کورٹ کو بھجوانے کا بھی حکم دیا۔

چیئرمین ڈرگ کورٹ محمد نوید رانا نے شہری محمد وسیم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔

شہری نے پتھالوجی لیبارٹریز کے ٹیسٹوں کیلئے من مانی قیمتیں وصول کرنے کیخلاف رجوع کیا تھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پتھالوجی لیبارٹریز ٹیسٹوں کی فیسوں کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ ڈرگ ایکٹ، پنجاب ڈرگ رولز اور ڈریپ ایکٹ کے قوانین پتھالوجی لیبارٹریزکے معاملے پرخاموش ہیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ میڈیکل ٹیسٹوں کیلئے زائد زیادہ فیسیں وصول کرنے پر کوئی سزا بھی مقررنہیں۔ چغتائی لیب اور دیگر پرائیویٹ لیبارٹریز کے ٹیسٹوں کی فیسیں انتہائی زیادہ ہیں۔ بلڈ شوگر، جگر، گردوں سمیت تمام ٹیسٹ انتہائی کم قیمت مگر لیبارٹریز زیادہ قیمتیں وصول کر رہی ہیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ صوبہ پنجاب کے غریب عوام پتھالوجی لیبارٹریز کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ آئین شہری کے حقوق کا تحفظ ضامن مگر شہریوں کو ان حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں نے پتھالوجی ٹیسٹوں کی قیمتیں مقررنہ ہونے کا اعتراف کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ چیف ڈرگ کنٹرولر اور سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ نے پتھالوجی لیبارٹریز کا معاملہ اپنے زیر سایہ نہ ہونے کا بیان دیا۔ پنجاب حکومت، محکمہ صحت، ہیلتھ کیئر کمیشن، چیف ڈرگ کنٹرولر، سیکرٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ نے بھی پتھالوجی لیبارٹریز کیلئے کوئی بھی قانون نہ ہونے کا اعتراف کیا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ میڈیکل سے متعلقہ محکموں نے ٹیسٹوں کی قیمتوں سے متعلق سارا بوجھ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن پر ڈالا۔ محکمہ صحت پنجاب نے یکم اکتوبر 2021ء کو بلڈ کمپلیٹ ٹیسٹ کیلئے 90 روپے مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے باوجود قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار نہ ہونے بیان دینا حیران کن بات ہے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.