این ایف آر سی سی کا اہم اجلاس، موسم سرما سے قبل عملی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات
نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کے اہم اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موسم سرما سے پہلے عملی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا اہم اجلاس آج منعقد ہوا جس دوران انسانی زندگیوں، لائیو اسٹاک اور انفراسٹرکچر کو ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل ظفر اقبال نے سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے اور فضائی جائزے کے متعلق آگاہ کیا۔
این ایف آر سی سی کے مطابق موجودہ سیلاب ملکی تاریخ کا بدترین تباہ کن سیلاب ہے جو کہ 2010 کے سیلاب سے کئی گنا زیادہ تباہی لایا ہے۔
بریفنگ کے مطابق سیلاب سے متاثر ہونے والے 33 ملین افراد میں 16 ملین بچے ہیں اور سیلاب سے ہونے والی 1500 اموات میں 500 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 3 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بچوں اور بچیوں کو لائف سیونگ سپورٹ کی فوری ضرورت ہے اسکے علاوہ سیلاب زدہ علاقوں میں بچوں بالخصوص نوزائیدہ بچوں اور حاملہ خواتین کو غذائیت کی کمی سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا ہے کہ سندھ میں بالخصوص کھڑے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا زیادہ خطرہ منڈلا رہا ہے اور ان وباؤں کو روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر این ایف آر سی سی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لئے مشترکہ سروے جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور سروے کے بعد موسم سرما سے پہلے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب وزارتِ فوڈ سیکورٹی نے این ایف آر سی سی کو تفصیلی بریفنگ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
اس موقع پر وزارت فوڈ سیکورٹی نے این ایف آر سی سی کو بتایا کہ گندم کی فراہمی اور ترسیل کو ہر صورت ممکن بنایا جائے گا۔
Comments are closed.