وسائل کے باوجود ملک مقروض ہے، عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وسائل کے باوجود ملک مقروض ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے چشتیاں میں ہونے والے پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہا جاتا تھا کہ چشتیاں ن لیگ کا گڑھ تھا، پر اب چشتیاں ن لیگ کا گڑھ نہیں ہے بلکہ لندن ن لیگ کا گڑھ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں غور سے میری بات سنو، پاکستان اب بدل چکا ہے، لوگوں میں شعور آگیا ہے، اور آنے والے دنوں میں انقلاب ووٹ کے ذریعے آنے والا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے موقع ملا پوری دنیا دیکھنے کا، میں نے امیر اور غریب ملکوں کو غور سے دیکھا، آپ مجھے بتائیں کی امیر اور غریب ملک میں کیا فرق ہوتا ہے؟ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تم سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں، تباہی کا سبب یہ ہے کہ جو قومیں کمزور چوروں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالتی ہیں لیکن امیر چوروں کو چھوڑ دیتی ہیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک آپ اپنے ملک میں انصاف قائم نہیں کر دیتے تب تک آپ کامیات نہیں ہو سکتے، ہمیں اللہ نے اتنے وسائل دیے ہیں لیکن ہمارا ملک پھر بھی مقروض ہے، ہمارے لوگ نوکری کیلئے باہر جاتے ہیں، اور اب سیلاب کی وجہ سے دوسرے ملکوں سے قرضے لے رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ملک کے بڑے بڑے چوروں کو جیل میں ڈالنے کے بجائے وزیر اعظم بنا دیتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ جو آج ہمارے ملک میں سربراہ بن کے بیٹھے ہیں وہی لوگ 30 سال سے ملک کو بیچ کر کھا رہے ہیں، آج شہباز شریف اور ان کے بیٹے نے عدالت میں کہا کہ ہمارا ایف آئی اے کا کیس ختم کیا جائے، وہ یہ کیس ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ 16 ارب روپیہ انہوں نے اپنے نوکروں کے نام پر لیا، ان دونوں کو اس پر سزا ہونے والی تھی، لیکن یہ لوگ بیرونی سازش کے ذریعے اقتدار میں آگئے اور اپنے چاروں نوکروں کو مروا دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ جب آپ لوگ سڑک پر جائیں گے تو کوئی مانگنے والا ملے گا اور آپ سے پیسے مانگے گا اور بولے گا کہ میری مجبوری ہے تو پیسے دے دیں، تو یہی کام تو آپ کا وزیر اعظم بھی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ کی ریاست سنبھالی تو انہوں نے ایک اللہ کا فرمان بتایا، ‘اللہ کا حکم ہے کہ انسان اچھائی کا ساتھ دے اور برائی کے خلاف آواز اٹھائے’، اس لیے آپ ان چوروں کو ووٹ نہیں دیجیے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم لوگ 27 رمضان کو دعا میں مصروف تھے کہ اللہ اس ملک کو حقیقی آزادی دے پر اس ہی دن شہباز شریف اپنا ٹولا اٹھا کر مدینہ پہنچ گیا اور لوگوں نے انہیں چور کا نعرہ لگانا شروع کر دیا، چور کے نعرے انہیں وہاں پر لگتے ہیں اور توہین مذہب کی ایف آئی آر مجھ پر کٹ جاتی ہے، یہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں اس لیے مجھ پر الٹے سیدھے کیس بنا رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ پہلے ان چوروں نے دھاندلی کر کے الیکشن جیتنے کی کوشش کی لیکن ہار گئے، پھر 25 مئی کو ہمیں ڈرانے کیلئے ظلم کیا لیکن فیل ہو گئے، اب یہ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو اداروں کے خلاف کر دیا جائے۔
Comments are closed.