مٹھی میں اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ڈی آئی جی میرپورخاص کی عدالت میں رپورٹ پیش

 مٹھی میں لڑکٰی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور خودکشی کے واقعے پرڈی آئی جی میرپورخاص نے عدالت میں رپورٹ پیش کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں تھرپارکرمٹھی میں لڑکی کے اغوا، گینگ ریپ اور خود کشی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں ڈی آئی جی میر پورخاص ذوالفقار مہر اور ایس ایس پی تھرپارکر حسن سردار اور دیگرعدالت میں پیش ہوئے۔

متوفیہ کے اہل خانہ بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ اہلِ خانہ کی جانب سے تمام واقعے سے متعلق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا۔

ڈی آئی جی نے رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ کیس میں 4 ملزمان گرفتارہیں۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کیس میں ڈی این اے کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مدعی مقدمہ اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ کیس کی مزید تفتیش کرکے 2 ہفتوں میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے۔

ڈی آئی جی میرپورخاص نے عدالت کے باہرمیڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیس کے مدعی اور گواہ کو تفصیل سے سنا ہے۔ چیف جسٹس نے تمام شواہد اور ڈی این اے کی بنیاد پر میرٹ پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ڈی آئی جی سے صحافی نے سوال کیا کہ واقعہ 8 تاریخ کو ہوا مقدمہ 18 ستمبردرج کیا گیا، وقت پر پولیس ایکشن لیتی تو بچی کی جان بچ جاتی؟ جس پرڈی آئی جی نے جواب دیا کہ مدعی اور گواہ نے  چیف جسٹس کے سامنے اس معاملے کو کلیئرکیا ہے کہ ہم نے ہی کوئی چیز نہیں بتائی تھی۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ مدعی اور گواہ نے کہا ہے کہ ہم نے جب پولیس کو رپورٹ کیا ہے تو انہوں نے کارروائی کی ہے۔ مدعی اورگواہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.