سیلاب کے باعث خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت بدترین سیلاب سے متاثر ہے، یہاں ہوتے ہوئے بھی میرا دل پاکستان میں ہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرنے پر یو این سیکریٹری جنرل کا شکر گزار ہوں، انتونیو گوتریس نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے ساتھ وقت گزارا، قوم کی طرف سے مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی تباہی کی فرسٹ ہینڈ معلومات آپ تک پہنچانے آیا ہوں، 40 دن اور 40 راتیں بارشیں اور سیلاب متواتر آتے رہے، موجودہ سیلاب کے باعث ہمارے 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں، میں خود ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گیا ہوں، ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں، ان سب کے ساتھ ہمیں مانسٹر مون سون کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، پاکستان میں اس طرح کی قدرتی آفت کو پہلے کبھی نہیں دیکھا، ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہو رہا ہے، ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس کا سبب ہم نہیں ہیں، ہمیں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے بعد اب سیلاب کی تباہی کا بھی سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سےایک کروڑ 10 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں، 370 پل سیلاب میں بہہ گئے، 10 لاکھ سے زائد مویشی سیلاب سے ہلاک ہو گئے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اس وقت بھی ریسکیو اور ریلیف کا عمل جاری ہے، دنیا میں جو کاربن فضا میں بھیجی جا رہی ہے پاکستان کا اس میں حصہ ایک فیصد سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے 05 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدام کیا، بھارت کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل، ان پر ظلم اور بربریت میں ملوث ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت بدلنے کی کوشش کی، لاکھوں جعلی ڈومیسائل جاری کر کے جغرافیائی حیثیت بدلنے کی کوشش کی گئی، ہم ان بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ہمیشہ کشمیریوں کے حقوق کیلئے ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، امن سے رہنے کا یا لڑنے کا فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے، بھارت نے یکطرفہ اقدامات سے خطے کے امن کو داو پر لگا دیا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ افواج تعینات کر رکھی ہیں، کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلہ کر لیں کیا ہتھیار خریدنے پر اپنے وسائل ضائع کرنے ہیں؟ افغانستان میں طویل عرصے کے بعد حالات بہتر ہو رہے ہیں، ان حالات میں افغان حکومت کو اکیلے چھوڑنا مسائل کو جنم دے سکتا ہے، پاکستان اور بھارت میں ہزاروں نوجوان روزگار کے منتظر ہیں، افغانستان میں بینکنگ کا نظام بحال کرنے کیلئے ان کے مالی ذخائر جاری کئے جائیں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، صرف پرامن مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کو تنہا کرنے سے افغان عوام کی محرومیاں مزید بڑھیں گی، افغانستان میں امن واستحکام خطے اور دنیا کیلئے ضروری ہے، دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے دنیا کو اقدامات کرنے ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشتگردی کا سامنا کیا، دہشتگری کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، افواج پاکستان نے عوام کی مدد سے دہشتگردی کے ناسور پر قابو پایا۔
Comments are closed.