سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے عالمی اداروں کا گروپ تشکیل
سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے عالمی اداروں نے گروپ تشکیل دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیلاب کے نقصانات کا جائزہ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اقوام متحدہ کی ایجنسیاں لیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گروپ میں عالمی اداروں کی معاونت کیلئے 17 شعبوں کے 100 ماہرین بھی شامل ہیں جبکہ سیلاب سے ہونے والوں نقصانات کا جائزہ عالمی مروجہ طریقہ کار کے تحت لیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ جائزے کے عمل کی قیادت حکومت پاکستان کرئے گا لیکن عالمی اداروں کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہوں گی۔
واضح رہے کہ پاکستان کو سیلاب کے نقصانات سے نمٹنے کیلئے 30 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
پی ڈی ایم اے سندھ:
سندھ حکومت نے صوبے میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے یونین کونسل کی سطح پر مشترکہ سروے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے مطابق ان کمیٹیوں میں ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور سیکرٹری یونین کونسل کے نمائندے شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ سروے کمیٹیوں کی نگرانی کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت تمام متاثرہ اضلاع میں ضلعی نگران کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع:
سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔
بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلمگسی، بولان، صحبت پور اور لیسبیلہ شامل ہیں۔
کے پی میں دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔
پاک بحریہ کی امدادی کوششیں:
پاک فضائیہ کی جانب سے خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں طبی امداد، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔
پاک فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے قائم کردہ میڈیکل کیمپس اور موبائل میڈیکل ٹیمیں سیلاب زدگان کو ضروری طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔
ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کے میڈیکل لیب کلیکشن پوائنٹس بھی سیلاب متاثرین میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی تشخیص کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
پاک فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاک فضائیہ کے اہلکاروں نے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے مقامی لوگوں کو ریسکیو کیا اور انہیں ٹرانسپورٹ فلیٹ، ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کے اہلکاروں نے متاثرہ افراد میں خشک راشن، پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی اور دیگر گھریلو استعمال کی اشیاء تقسیم کیں۔
اسکے علاوہ انہوں نے مفت خوراک اور رہائش کی فراہمی کے علاوہ پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے2777 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔
Comments are closed.