حلیم عادل شیخ کو سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا
قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حلیم عادل شیخ کو مقدمات میں ضمانت کے بعد عدالتی حکم پر رہا کر دیا گیا۔
جیل کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے پرجوش طریقے سے حلیم عادل شیخ کا استقبال کیا۔
حلیم عادل شیخ نے رہائی کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں عمران خان کا، میں آئی ایل ایف کے وکلاء کا بھی شکر گزار ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ رجیم چینج کے بعد مجھ پر 6 کیس بنائے گئے، وکلاء نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، میرا قصور یہ تھا میں عوام کی آواز بنتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 27 کیس بنا کر میری آواز بند کرنے کی سازش کی گئی پر میں بھی کپتان کی ٹیم کا کھلاڑی ہوں، ہتھکڑی میں بھی وہی بات کرتا تھا آج بھی عوام کی بات کر رہا ہوں۔
حلیم عادل نے کہا کہ پچھلی بار رلیز آرڈر دیا گیا تو جیل کے اندر سے گرفتار کیا گیا، جیل کے اندر سے گرفتار کرنا غیر قانونی ہے، میری ٹانگ میں زخم تھا پر پھر بھی دہشتگردوں کی کھولی میں رکھا گیا، تکلیف دے کر خوش ہوتے تھے، ہم آخر تک حق اور انصاف کی جنگ لڑتے رہیں گے۔
قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی نے کہا کہ ہفتے میں دس افراد قتل ہو چکے ہیں، سندھ کی ساری پولیس میرے خلاف کھڑی کی ہے، سندھ میں سیلاب ہے امداد جہازوں میں آرہی ہے لیکن کچھ پتا نہیں سامان کہاں جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 14 سالوں میں نہروں کی پشتیں مضبوط نہیں کی گئی، نہروں کی کمزور پشتوں کی وجہ سے سیلاب بن گیا، ہماری پوری ٹیم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے، عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
واضح رہے کہ حلیم عادل شیخ کو 29 اگست پر سینٹرل جیل کے احاطے سے ضمانت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، ان پر اینٹی انکروچمنٹ کی جانب سے مقدمہ دائر کیا گیا تھا، حلیم عادل شیخ پر اس وقت 27 سے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں۔
Comments are closed.