توہینِ عدالت کی کارروائی کا اختیارات دینے کا معاملہ، الیکشن کمیشن سے جواب طلب
عدالت نے توہینِ عدالت کی کارروائی کےاختیارات دینے کے خلاف درخواست پرالیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کو توہین عدالت کی کارروائی کے اختیارات دینے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18 اکتوبر کیلئے جواب طلب کرلیا۔
لاہورہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کوبھی معاونت کیلئے طلب کر لیا۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے میاں شبیر اسماعیل ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسارکیا کہ الیکشن کمیشن توہین عدالت کے اختیارات کیسے استعمال کر سکتا ہے۔
وکیل درخواست گزارنے جواب دیا کہ آئین کے تحت توہین عدالت کے اختیارات صرف عدالت کو حاصل ہیں۔ الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ کی دفعہ 10 میں ترمیم کرکے توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ الیکشن کمیشن کا کردار انتظامی نوعیت کا ہے۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کیے جاتے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ تو عدالت اور ہے اور نہ ہی عدالتی اختیارات کا استعمال کر سکتی ہے۔ توہین عدالت کا اختیاراسے دینا آئین پاکستان 1973 کی خلاف ورزی ہے۔ توہین عدالت کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے۔
وکیل درخواست گازر نے یہ مؤقف بھی اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ توہین عدالت کی کارروائی کر سکے۔ اگرالیکشن کمیشن کو توہین عدالت کی اجازت دینی ہوتی تو آئین پاکستان میں اسے فراہم کی جاتی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ الیکشن ایکٹ کی دفعی 10 میں کی گئی ترمیم کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اورالیکشن کمیشن کو توہین عدالت کا اختیار استعمال کرنے سے روکا جائے۔
Comments are closed.