بول کی بحالی کے لیے صحافتی تنظیموں کا بڑا فیصلہ

بول کی بحالی کے لیے صحافتی تنظیموں نے بڑا فیصلہ کرلیا ہے، صحافتی تنظیموں نے حکومت کو 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی۔

صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے بول سے فوری طور پر بندش ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے بول کو 24 گھنٹے میں بحال نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کا فیصلہ بھی کیا۔

جوائنٹ سیکرٹری پریس کلب سرگودھا امتیاز چوہدری نے بھی بول کی بحالی کا مطالبہ کیا جبکہ صدر سنٹرل پریس کلب گلگت خورشید احمد نے بھی بول کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

سیکریٹری لاہور پریس کلب عبد المجید ساجد نے کہا صحافیوں کا معاشی قتل نہ کیا جائے۔

صحافیوں  کی جانب سے کہا گیا کہ جمعرات سے بول کی بندش کے خلاف بڑی جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر بول کو چوبیس گھنٹے میں بحال نہ کیا تو جمعرات سے احتجاجی کیمپ لگا دیا جائے گا۔

بول نیوز کی بندش کے خلاف پی ایف یوجے ،آرآئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے عہدیداران کا مشترکہ اجلاس

پی ایف یو جے آرآئی یوجے نیشنل پریس کلب کے عہدیداران کا اجلاس نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوا، صحافتی تنظیموں کا اجلاس صدر پی ایف یوجے افضل بٹ کی صدارت میں ہوا۔

 اجلاس میں نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا آرآئی یو جے کے صدر عابد عباسی اور سیکرٹری جنرل طارق علی ورک دیگر عہدیداران نے شرکت کی جبکہ پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ارشد انصاری بھی شریک ہوئے۔

بول نیوز کی طرف سے بیوروچیف صدیق جان ڈپٹی بیوروچیف علی شیر ،کانٹنٹ ہیڈ ایم بی سومرو ،سینئر رپورٹرز ملک سعید زاہد فاروق ملک نے شرکت کی جبکہ صحافتی تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں پی آر اے کے صدر صدیق ساجد اور اسلام آباد ہائیکورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ثاقب بشیر نے شرکت کی۔

صدر پی ایف یوجے افضل بٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بول نیوز کو بحال کرانے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔

بول نیوز اور بول انترٹینمنٹ کی بندش کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج

خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر پشاور کے صحافیوں نے بول نیوز اور بول انترٹینمنٹ کی بندش کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے کے دوران صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں نے بول کی نشریات فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھارکھے تھے پر جن پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین سے پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، کے ایچ یوجے کے صدر ناصر حسین، جنرل سیکرٹری عمران یوسف زئی اور بول نیوز کے ڈائریکٹر نیوز ظاہر شاہ شیرازی نے خطاب کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ کسی بھی ٹی وی چینل اور اخبار پر پابندی آئین پاکستان کے منافی ہے، بول کی بندش سے ہزاروں صحافیوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کی صحافی برادری اظہار رائتے کی اپنی آزادی کا دفاع کرنے کے لئے متحد ہے۔

بول کو بولنے دو، امپورٹڈ حکومت نے بول کو بند کردیا

امپورٹڈ حکومت کا آزادی صحافت پر وار، حق اور سچ بتانے پر بول ٹی وی اور بول انٹرٹینمنٹ کی نشریات پر پابندی لگا دی گئی۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کی جانب سے بول کی نشریات بند کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا،عوام اور صحافتی حلقے مطالبہ کررہے ہیں کہ بول کو بولنے دو۔

چند گھنٹوں کی بندش سے دل نہ بھرا تو امپورٹڈ حکومت نے مستقل بنیادوں پر پابندی لگا دی۔

بول نے عمران خان کے ساتھ ساتھ سب کے جلسوں کو کوریج دی اور عمران خان کی آواز سب تک پہنچائی لیکن یہی بات امپورٹڈ حکومت کو پسند نہ آئی اس لئے انہوں حق اور سچ کی آواز پر تالا لگا دیا۔

عمران خان کے جلسوں کے دوران بول دو دو گھنٹے بند کیا جاتا رہا لیکن اب پیمرا نے مکمل بندش کا حکم دیدیا۔

بول حق کے ساتھ پہلے کی طرح ہمیشہ کھڑا رہے گا، بول جھکے گا نہیں ڈرے گا نہیں اور سچائی کے بول بولتا رہے گا۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.