اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل ٹیلی تھون کی بندش کو چیلنج کریں گے، فواد چوہدری
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل ٹیلی تھون کی بندش کو چیلنج کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں فواد چوہدری اور ثانیہ نشتر نے کے پی ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
فواد چوہدری
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ سیلاب زدگان کے لیے دو بڑی ٹیلی تھون تحریک انصاف نے کی ہیں، تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا آج اجلاس ہوا، پاکستان میں میڈیا سینسر شپ کی جا رہی ہے، صحافیوں کو انسداد دہشت گردی کیسز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سیلاب زدگان کے لئے تحریک انصاف کی ٹیلی تھون کا ہر کسی کو ساتھ دینا چاہیے تھا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے خلاف مذہب کارڈ بھی کھیلنا شروع کر دیا گیا ہے، عمران خان کے خلاف مہم چلانے والے صحافیوں کے پیچھے مریم نواز کا میڈیا اسٹریٹجک سیل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کے پی اور پنجاب میں سیلاب کی تباہی کم ہے، بلوچستان اور سندھ میں سیلاب کی تباہی بہت زیادہ ہے، کے پی پنجاب کا انفراسٹرکچر سندھ اور بلوچستان سے بہتر ہے، تمام حکومتوں کے ساتھ کوآرڈینیٹ کر کے پیسہ خرچ کرنا چاہتے ہیں، وفاقی حکومت نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی، عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کہتی ہے ہم تو چینل بند نہیں کرتے تو پھر آخر بند کون کرتا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل ٹیلی تھون کی بندش کو چیلنج کرنے جا رہے ہیں، وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ حکومت میں آنا نہیں چاہتے تھے، ن لیگ الیکشن جیت نہیں سکتی، اس لیے عمران خان کو نااہل کروانا چاہتی ہے، ملک معاشی تباہی کی طرف گامزن ہے، بتایا تو یہ گیا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد ملک میں دودھ کی نہریں بہہ جائیں گی۔
پارٹی رہنما نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا کہہ رہا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا، تحریک انصاف نے شوکت ترین کی سرپرستی میں معاشی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، بلین ڈالر رواں سال قرضہ دینا ہے جبکہ 8 بلین ڈالر پاکستان کے پاس ہے، پی ٹی ائی حکومت میں بانڈ 4٪ ڈسکاؤنٹ پر مہیہ تھے، آج بانڈ 50٪ ڈسکاؤنٹ پر ہے، ملک کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ایف آئی اے کی طرف سے نوٹسز جاری کرنے پر بھی چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف چاہتی ہے 123 نشستوں پر انتخابات کروائے جائیں، امریکہ کے ساتھ ہماری کوئی جنگ نہیں، رابن رافیل ریٹائرڈ ہو چکے، ان کا امریکہ حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، امریکہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بات چیت کریں گے، امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں، معلوم نہیں عمران خان کی رابن رافیل کی ملاقات ہوئی یا نہیں لیکن اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ثانیہ نشتر
پی ٹی آئی کی سینئر رہنما و چیئر پرسن پنجاب احساس پروگرام ثانیہ نشتر نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے پہلی ٹیلی تھون نشریات کیلئے پانچ ارب سے زائد اکھٹے ہوئے، دو ارب روپے ٹیلی تھون میں بحالی کے کاموں میں وقف کیے گئے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے 1 ارب 90 کروڑ روپے مل چکے ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر سے تقریباً 1 لاکھ پاکستانیوں نے عطیات جمع کروائی۔
ثانیہ نشتر نے کہا کہ گزشتہ روز دو گھنٹوں میں 5 ارب 20 کروڑ ٹیلی تھون نشریات سے امداد اکھٹی ہوئی، اکٹھے ہونے والے فنڈز کو شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے خرچ کریں گے، متاثرین کو نقد پیسے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ناگہانی آفت کے بعد کچے گھروں کو پیسہ نہیں دیا جاتا، جو جتنا غریب ہو گا اسے اتنا ہی امداد سے محروم کر دیا جاتا ہے، کسی فرد کو امداد سے محروم نہیں کریں گے۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ حکومت پنجاب اور کے پی سے معاملات طے پا گئے اور دیگر صوبوں کے ساتھ بھی کام کرنا چاہتے ہیں، سیلاب زدگان کو امداد دینے میں کوئی سیاست نہیں ہو گی، خیبرپختونخوا میں 900 افراد کے پاس ٹیبلیٹ موجود ہے، ان کے لیے ایپلیکیشن بنائی گئی، 900 افراد فیلڈ میں جا کر کام شروع کر دیں گے، والنٹیئر گھروں کی تصاویر لے کر گوگل میپ پر ڈالیں گے، ڈیٹا ہمارے پاس آجائے گا۔
Comments are closed.