عمران خان توہین عدالت کیس کے تحریری حکم کا مکمل متن

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی 8ستمبر کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ۔

دو صفحات اور دو پیراگراف پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ ہم نے عمران خان کے وکیل ،اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو سنا ہے،  فاضل وکیل عدالت کوعمران خان کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب پر لے گئے اور موقف اپنایاکہ جواب ان کے موکل کی اس تقریرپر وضاحت ہے جس کی بنیاد پر توہین عدالت کا آغاز کیا گیا ہے۔

عدالت نے لکھا ہے کہ ہم نے عمران خان کے جواب کا جائزہ لیاہے اور اس جواب کو تسلی بخش نہیں پایا۔ ہم اس بات پر قائل نہیں ہیں کہ عمران خان نے خود کو اس غلط کام کے الزام سے پاک کر لیا ہے جس کی وجہ سے ان کواظہار وجوہ کانوٹس جاری کیا گیا تھا۔

عدالت نے اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے چھ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فردوس عاشق اعوان توہین عدالت کیس میں فیصلے کی نظیر کو شامل کیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ معاملے کی سماعت 22 ستمبر 2022 کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے ملتوی کی جاتی ہے ۔ کیس کی سماعت 2بج کر30منٹ پر کی جائے گی۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل اشترف اوصاف، ایڈیشنل اٹارنی جنرلز عامر رحمان، حافظ منوراور اقبال  گل،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیرجدون، ڈپٹی اٹارنی جنرلز میاں فیصل عرفان، ارشد محمود،فضل الرحمان نیازی اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان رسول گھمن پیش ہوئے۔

عمران خان کی جانب سے حامد خان، محمد وقاررانا، اجمل غفار طور پیش ہوئے جبکہ عدالتی معاونین منیر اے ملک، مخدوم علی خان اور اختر حسین  پیش ہوئے۔

توہین عدالت کے مبینہ مرتکب عمران خان ذاتی حیثیت میں  پیش ہوئے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.