ڈینگی وائرس سے سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں، وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ ڈینگی وائرس سے سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے ڈینگی وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر تمام ہسپتالوں کو خصوصی ہدایات جاری کر دیں۔

عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ڈینگی کے مریضوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مریضوں کو ہسپتال میں مفت طبی سہولیات کو یقینی بنایا جائے اور ہسپتالوں کا عملہ ڈینگی کے مریضوں کے علاج کیلئے بھر پور اقدامات کرے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ڈینگی وائرس سے سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں، ڈینگی وائرس کی تشخیص کیلئے بھر پور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈینگی وائرس کی روک تھام سرویلنس نظام کو مزیز تیز اور بہتر بنایا جائے جبکہ ڈینگی وائرس سے نمٹنے کیلئے آگاہی مہم کو بھی تیز کیا جائے۔

وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈینگی وائرس سے کی روک تھام کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنائے۔

ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کی نئی وجہ سامنے آگئی

ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کی نئی وجہ سامنے آگئی ہے۔گزشتہ 2 ماہ کے دوران ہونے والی موسلادھار بارشوں کے بعد کراچی میں نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کی خراب صورتحال کے باعث شہر میں حالیہ ہفتوں میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حالیہ مون سون بارشوں کے بعد ملک میں بھر میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہوگیا ہے، محکمہ صحت سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں 192 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

سندھ بلڈ ٹرانس فیوژن اتھارٹی کی سربراہ ڈاکٹر دُرِ ناز قاضی کے مطابق ڈینگی وائرس نے اپنی ہیئت تبدیل کرلی ہے جس کے باعث لوگ زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب تک کراچی میں مریضوں کو 29 ہزار سے زائد پلیٹلیٹس لگائے جاچکے ہیں اس کے علاوہ عوام کی سہولت کے لیے ہیلتھ کیئر کمیشن نے ڈینگی ٹیسٹ کی فیس 3000 روپے سے کم کر کے 850 روپے کردی ہے۔

کراچی کی 246 یونین کاؤنسل کیلئے صرف 30 اسپرے گاڑیاں موجود

کراچی میں مچھروں کی بہتات جاری ہے ڈینگی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی کی 246 یونین کاؤنسل کے لئے صرف 30 اسپرے گاڑیاں موجود ہیں جن میں 60 اسپرے گاڑیوں میں سے 30 پہلے ہی خراب ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ 30 گاڑیاں گزشتہ تین سالوں سے خراب کھڑی ہیں، کراچی میں مچھروں اور وبائی امراض سے بچاؤں کی ذمہ داری کے ایم سی کی ہے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.