وفاقی امپورٹڈ حکومت کا یہ غیر جمہوری و فاشسٹ روبہ ناقابل برداشت ہے، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ وفاقی امپورٹڈ حکومت کا یہ غیر جمہوری و فاشسٹ روبہ ناقابل برداشت ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا ویڈیو لنک پر 23واں اجلاس ہوا جس میں گلگت بلتستان کابینہ نے وفاق کے چیف کورٹ کے ججز تعیناتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔
صوبائی کابینہ نے چیف کورٹ کے ججز تعیناتی کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وفاقی فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
کابینہ اجلاس میں جی بی کی منتخب صوبائی اسمبلی و حکومت کو گھر بھیجنے کے عزائم اور من پسند فیصلوں کی سختی سے مزمت کرتے ہوئے اسے جی بی دشمن اپوزیشن کی شرارت قرار دیا۔ صوبائی کابینہ نے قانونی، سیاسی و عوامی ہر محاذ پر وفاقی امپورٹڈ حکومت کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ قانونی طور پر ججز کی تعیناتی ہو یا توسیع دونوں کی صورت میں صوبائی حکومت کی مشاورت لازمی قرار دی گئی ہے۔ گورنر کے پاس جانے والی سمری کو قانوناً صوبائی حکومت کے ساتھ کنسلٹیشن کرنا ضروری ہوتا ہے جسے سبوتاژ کیا گیا۔
کابینہ اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ چیف کورٹ کے ججز تقرری کے معاملے میں وفاقی امپورٹڈ حکومت نے جی بی حکومت کے اختیارات پر شب خون مارا، قانون کی دھیجیاں اڑائیں اور جی بی حکومت کے مشاورت کے بغیر چیف کورٹ کے ججز کی تقرری قانونی کی خلاف ورزی ہے۔
خالد خورشید نے کہا کہ وفاقی امپورٹڈ حکومت جی بی کی منتخب حکومت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا چاہتی ہے، وفاق پر مسلط امپورٹڈ حکومت جی بی کی منتخب اسمبلی کو سازش کے ذریعے گھر بھیجنا چاہتی ہے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ جی بی جیسے حساس علاقے کا وفاقی حکومت کی جانب سے استحصال پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جو سوتیلا سلوک وفاقی امپورٹڈ حکومت نے جی بی کیساتھ روا رکھا ہے ایسا افسوس ناک رویہ گزشتہ 75 سالوں میں نہیں دیکھا گیا۔
وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا برملا اظہار کیا کہ عوام کے تعاون سے وفاقی امپورٹڈ حکومت کو جی بی کی منتخب اسمبلی کے مدت اور حکومت کے اختیارات کیساتھ کھلواڑ کرنے نہیں دینگے کیونکہ یہ گلگت بلتستان کے 22 لاکھ عوام کی توہین ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی منتخب اسمبلی کی مدت اور حکومت کے اختیارات کے تحفظ کے لئے تمام تر آپشنز بروئے لائیں گے۔
خالد خورشید کا کہنا تھا کہ قانونی، سیاسی و عوامی ہر محاذ پر بھرپور طریقے سے امپورٹڈ حکومت کی سازش کا ڈٹ کر مقابلے کریںنگے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی امپورٹڈ حکومت جی بی کو کالونی کے طرز ٹریٹ کر رہی ہے،پہلے جی بی کے بجٹ کو کاٹا۔ پھر ججز کی تقرری میں جی بی حکومت کے اختیارات میں مداخلت کی گئی۔
خالد خورشید نے کہا کہ آگے عوام کی منتخب اسمبلی اور حکومت کو ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں، وفاقی امپورٹڈ حکومت کا یہ غیر جمہوری و فاشسٹ روبہ ناقابل برداشت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین عمران خان نے جی بی کے عوام کی منتخب اسمبلی و صوبائی حکومت کے اختیارات کے تحفظ کے لئے اپنے بھرپور حمایت و تعاون کی یقین کرائی ہے اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ امپورٹڈ وفاقی حکومت کے جی بی مخالف مذموم عزائم ناکام بنانے اور استحصالی اقدامات کے خاتمے کے لئے فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کے لئے اعلی عدلیہ سے رجوع کریں۔
اجلاس میں صوبائی وزراء نے مشترکہ طور پر کہا کہ ججز تعیناتی ہو یا کوئی اور فیصلے جس میں صوبائی حکومت کے مشاورت کے بغیر ہو ہمیں قابل قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک حکومت ہیں اور ہماری ایک حیثیت ہے،حکومت گلگت بلتستان کے مشاورت کے بغیر کسی بھی فیصلے کو نہیں مانتے،ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اور ہم اس کے پاسدار ہیں۔
صوبائی وزراء نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے اوپر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے مشاورت کے بغیر کسی بھی فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان کردیا۔
کابینہ اجلاس میں صوبائی وزراء کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی شرارت کا صوبائی حکومت ڈٹ کر مقابلہ کریگی۔
صوبائی وزراء نے یکطرفہ فیصلوں کو غلط پریکٹس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی جانب سے ججز تعیناتی اور توسیعی عمل کو یکطرفہ فیصلہ گلگت بلتستان کی صوبائی حیثیت سے انکاری کے زمرے میں آتا ہے۔
Comments are closed.