عدالت نے رانا شمیم کو ایک اور بیان حلفی جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا شمیم کو ایک اور بیان حلفی جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جج گلگلت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

رانا شمیم اپنے وکیل ایڈوکیٹ لطیف آفریدی کے ہمراہ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل وفاق کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔

رانا شمیم نےغیر مشروط معافی مانگنے کا جواب عدالت میں پیش کیا جس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے موجودہ جج کا نام بیان حلفی میں غلط فہمی سے لکھا۔ تحریری طور پرنئے مؤقف کے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔

تحریری جواب میں سابق چیف جج جی بی نے کہا کہ ہائیکورٹ کے کسی موجودہ جج کا تنازعے سے تعلق نہیں۔ ثاقب نثار سے لان میں بیٹھے چیف جسٹس کے بعد سب سے سینئر جج کا سنا۔ واقعے کے تین سال بعد بیان حلفی دیا، دل کا مریض بھی ہوں۔

رانا شمیم نے لکھا کہ غلط فہمی کا شکار ہو کر ہائیکورٹ کے موجودہ سب سے سینئر جج کا نام لکھ دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم نے قانون واضح کر رکھا ہے۔ آپ نے اپنے بیان میں لکھا کیا ہے۔

رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی روسٹرم پرآئے اورکہا کہ ہم نے غیرمشروط معافی کا جواب جمع کروادیا ہے۔ ہم نے عدالت سے معافی قبول کرنے کی استدعا کی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے معافی کے ساتھ کوئی بیان حلفی جمع کرایا ہے؟

لطیف آفریدی نے دلائل دیے کہ ہم نے معافی مانگ لی اور عدالت کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا اس ہائی کورٹ کی حد تک توہین عدالت کیس میں پرنسپل واضح ہیں۔ میری ذاتی رائے ہے کوئی جینوئن معافی مانگے تو ہماری کوئی انا نہیں۔ آپ اس عدالت پر یا ججوں پر بے شک تنقید کریں۔ ہم نے قانون واضح کر رکھا ہے۔ آپ نے اپنے بیان میں لکھا کیا ہے؟

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ رانا شمیم کے بیان کا آخری پیراگراف میں پڑھ دیتا ہوں۔ رانا شمیم نے لکھا کہ چیف جسٹس کے بعد سب سے سینئر جج کا ثاقب نثارسے سنا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تو بیان حلفی میں آپ نے جن کا نام لکھا وہ اُس وقت چوتھے نمبر پر تھے۔ آپ اس کیس کو اور بھی پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ کیا رانا شمیم اب بھی اپنے بیان حلفی پر قائم ہیں؟ کوئی چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو اس عدالت پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے کہا کہ بیان حلفی پر قائم رہنا اور معافی بھی دونوں ساتھ نہیں چل سکتے۔ آپ نے الزام لگایا اور ایک بڑے اخبارنے چھاپ بھی دیا۔ اب آپ کہہ رہے ہیں میموری ٹھیک نہیں تھی۔ کیا اب آپ کہہ رہے ہیں وہ بیان غلطی غلط دیا تھا ؟

وکیل رانا شمیم نے کہا کہ نہیں نہیں ایسا نہیں کہا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اگرایسا نہیں تو پھر تو یہ عدالت خود کو کلیئر کرے گی۔ معافی ایسے آدھے دل کے ساتھ نہیں ہوتی۔ 2018 کےبعد کوئی اس عدالت پر اثر انداز ہوا ہو تو جوابدہ ہیں۔ یہ مذاق بہت ہوگیا ، یہ اسلام آباد ہائیکورٹ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کیس میں اگلے کو احساس ہی دلانا ہوتا ہے اس نے کیا کیا۔ غیر مشروط معافی کوئی عدالت کی انا کا معاملہ نہیں ہوتا۔ آپ اس عدالت کا پچھلا پورا ریکارڈ دیکھیں توہین کے کیسز میں کیا رہا۔

عدالت نے کہا کہ اُس وقت جو بھی سب سے سینئر جج ہوئے ہوں عدالت اگنور نہیں کر سکتی۔ ہم یہی کرسکتے ہیں کہ رانا شمیم کو پھرمہلت دے سکتے ہیں۔ رانا شمیم آج والا بیان ایک بیان حلفی کی صورت میں دے دیں۔

سابق چیف جج گلگلت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس میں عدالت نے رانا شمیم کو دوبارہ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم 19 ستمبر تک اپنا بیان حلفی جمع کروائیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت پیر 19 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ توہین عدالت کی پروسیڈنگ ہے اس کی حساسیت کو عدالت سمجھتی ہے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.