آئین میں ترمیم سے نواز شریف کی نااہلی ختم کرانا حکومت کیلئے ناممکن
آئین میں ترمیم سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی ختم کرانا حکومت کیلئے ناممکن بن گیا ،آئین میںترمیم کیلئے مطلوبہ تعداد سے حکومت محروم ہوگئی ہے۔
نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے خاتمے کیلئے دوقانونی طریقے اپنائے جاسکتے ہیں، پہلا طریقہ پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین ہے اور دوسرا طریقہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ 13اپریل کے اپنے ہی فیصلے کو ختم کردے۔
نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے کیلئے آئین کے آرٹیکل62ون ایف میں ترمیم کرنا ہوگی،آئینی ترمیم کیلئے قومی اسمبلی و سینیٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے، حکومت کے پاس دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت موجود نہیں۔
نمبر گیم کیا ہے ؟
قومی اسمبلی کے342ارکان میں سے دوتہائی ارکان کی تعداد228 بنتی ہے اور اس وقت ایوان میں پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے 178ارکان موجود ہیں۔
پی ٹی آئی کے 19منحرف ارکان اور دیگر دو مستعفی نہ ہونے والے ارکان سمیت 23ارکان موجود ایوان میں موجود ہیں۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے 3 ارکان جبکہ جماعت اسلامی کے ایک رکن مولانا عبدالاکبر چترالی بھی اپوزیشن میں شامل ہیں۔
موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے تمام ارکان کو ملا کربھی قومی اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 199بنتی ہے ،جو دو تہائی اکثریت نہیں بنتی اس لئے پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم ناممکن ہے ۔
سینیٹ کے ارکان کی کل تعداد 100ہے، ایوان بالا میں کل ارکان کی دو تہائی تعداد67بنتی ہے جبکہ سینیٹ میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے 56ارکان ہیں۔
ایوان بالا میں اپوزیشن جماعتوں بشمول پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کے 42ارکان ہیں۔
Comments are closed.