حکومت ملی تو ملک میں انصاف کا نظام بہتر کریں گے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ملی تو ملک میں انصاف کا نظام بہتر کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ملتان میں پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس تعداد میں آج ملتان میں ہماری خواتین آئی ہوئی ہیں میں انہیں پیغام دیتا ہوں کہ اپنے بچوں کو خاص طور پر سمجھائیں کہ کوئی ملک عزمت حاصل نہیں کرتا جب تک وہ ملک اپنا مقام نہیں سمجھے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم سب میں اللہ نے طاقت دی ہے کہ ہم بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں، پاکستان کو وہ ملک بنا سکتے ہیں جو علامہ اقبال کا خواب تھا، پاکستان ایک مثالی اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ انسان کو ایک بڑا انسان بناتا ہے لیکن ہم کمزوریوں کی وجہ سے چھوٹے ہو جاتے ہیں، میں نے اپنی کرکٹ کی زندگی میں دیکھا کہ مجھ سے اچھے اچھے پلیئرز بھی تھے لیکن ان کے اندر یہ مسئلہ تھا کہ وہ بڑا نہیں سوچتے تھے، جب جیت جاتے تھے تو مطمئن ہو جاتے تھے اور پیسے کے پیچھے بھاگنے لگ جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاکستانیوں، پیسے کو استعمال کرنا سیکھو، پیسے سے کبھی استعمال نہ ہونا، پیسے کے بت کی کبھی پوجا مت کرنا، پہلے قلمے کا مطلب سیکھو، کسی چیز کے آگے نہیں جھکنا۔

عمران خان نے کہا کہ آج کل میرے رہنماوں کو کال آتی ہیں، میڈیا ہاوسز کو کالز آتی ہیں، انہیں ڈرایا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اللہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلیں، کیونکہ جب انسان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلتا ہے تو ایک چھوٹے انسان کے بھی پر لگ جاتے ہیں، میری کوشش ہے کہ میں اپنی قوم کو اپنے پیارے آقا کے راستے پر چلائوں۔

ان کا کہنا تھا کہ زرداری، شہباز شریف، نواز شریف، ڈیزل، یہ وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے ہمیں رموٹ کنٹرول کیا جاتا ہے، ان میں اتنی جرت نہیں کہ جب روس سستی چیزیں بیچ رہا تھا تو ان سے چیزیں خرید لیتے، لحاظہ لوگوں کو مہنگائی سے گزرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہمارا ملک آزاد ہو، پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں، ہمارے پاسپورٹ کی عزت ہو۔

عمران خان نے کہا کہ سازش کے تحت ان چوروں نے ہماری حکومت گرائی ہے، آپ سب نے مجھ سے وعدہ کرنا ہے کہ اس الیکشن میں ان چوروں کو شکست دینی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ میں نے پوری دنیا دیکھ لی، ایک چیز میں نے نوٹ کی کہ خوشحال ملکوں میں انصاف ہوتا ہے اور غریب ملکوں میں ظلم ہوتا ہے، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ طاقتور کیلئے ایک قانون اور کمزور کیلئے دوسرا قانون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سب دشمنوں کو معاف کر دیا لیکن ایک لڑکی جو چور تھی اس کو معاف کرنے کیلئے لوگوں نے پیارے آقا سے سفارش کی کہ اسے معاف کر دیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری کرتی تو میں اس کو سزا دیتا۔

انہوں نے کہا کہ میں ہر کسی سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن چوروں سے میں بات نہیں کر سکتا، جب کوئی معاشرہ برائی کو برا نہیں سمجھتا تو وہ اپنی تباہی کا گڑھا خود کھود رہا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ لوگ جو معاشرے کے اندر قبضہ گروپ ہیں، ہم نے ان سے بدلہ لینا ہے، 26 سال پہلے جب میں سیاست میں آیا تھا تو یہ سوچ کے آیا تھا کہ پاکستان میں مجھے انصاف کی جنگ لڑنی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اگر میں دوبارہ حکومت میں آیا تو سب سے پہلے بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے آسانی کروں گا کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں اور یہی لوگ ہیں جو پاکستان کو اس مشکل وقت سے نکالیں گے بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم اس دور میں ہیں جس دور میں میرے پیارے آقا لوگوں کو تبلیغ دیتے تھے اور لوگ فوری اسلام قبول کر لیتے تھے، آج میں دیکھ رہا ہوں کہ عوام میں بہت بیداری آئی ہے، لوگ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ان چوروں کو نہیں چھوڑنا۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.