سندھ میں سیلابی صورتحال، ایک دن میں 35 افراد جاں بحق
سیلابی صورتحال
ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلابی صورتحال کے سبب 35 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) سندھ کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں لاڑکانہ میں ہوئیں، جہاں 21 افراد جاں بحق ہو گئے۔
پی ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شہید بے نظیر آباد میں 5، بدین 3، ٹنڈو محمد خان 3، نوشہرو فیروز 2 اور گھوٹکی میں 1 شخص جاں بحق ہوا۔
پی ڈی ایم اے سندھ کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 15 بچے،6 عورتیں اور 14مرد شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 2 ہزار 923مرد، 2 ہزار 167 عورتیں اور 3 ہزار 231 بچے شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کے آغاز سے 20 جون سے 7 ستمبر کے دوران سندھ میں 577 افراد جاں بحق جبکہ اب تک 8 ہزار 321افراد مختلف حادثات میں زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ حالیہ طوفانی بارشوں کے سبب پاکستان کے چاروں صوبوں کے متعدد شہروں میں سیلاب آیا جس کے باعث کافی شہر پانی میں ڈوب چکے ہیں۔
مسلح افواج، حکومت اور انتظامیہ کے علاوہ عام شہری بھی سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ ملک کو اس بڑے امتحان سے فوری طور پر نکالا جائے۔
‘سندھ میں سیلاب میں کی تباہ کاریاں شدید ہیں’
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں شدید ہیں، سیلاب کی تباہی کا مقابلہ کرنے کے لئے میڈیا حکومت سندھ کا ساتھ دے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت متاثرین سیلاب کی ہر ممکن مدد کرنے میں مصروف ہے، سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے عالمی برادری کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلاب میں کی تباہ کاریاں شدید ہیں، متاثرین سیلاب بری طرح تباہی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔عالمی ادارے ، مخیر حضرات ، فلاحی تنظیمیں موجود حالات میں حکومت سندھ کے ہاتھ بٹائیں۔
مراد علی شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ حکومت متاثرین سیلاب میں راشن بیگز ، ٹینٹس، مچھر دانیاں، فراہم کررہی ہے، میڈیا ہماری کوتائی ضرور رپورٹ کرے مگر متاثرین کی مشکلات کو اپنی نشریات سے ضرور اجاگر کرے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اس سال جتنا سیلاب آیا ہے اتنا پہلے نہیں دیکھا ، میرا اپنا گاؤں بھی سیلاب کی تباہی سے ڈوبا ہے، سیلاب متاثرین کی مدد مرحلہ وار جاری رہے گی۔
Comments are closed.