چار سے پانچ ارب ڈالر کا خسارہ ہم برداشت کرسکتے ہیں، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ چار سے پانچ ارب ڈالر کا خسارہ ہم برداشت کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے لاہور چیمبر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر لاہور چیمبر نے جو گفتگو کی ہے اس سے متفق ہوں ، ملک اس وقت مسائل سے گھرا ہوا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ جب شہباز شریف کو ملک کی بھاگ دوڑ دی گئی، اس وقت 10.5 بلین ڈالر خزانے میں تھے جبکہ 12 سے 13 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا۔

 وفاقی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس صرف ڈیڑھ کا امپورٹ رہ گیا تھا، اگر ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں نا جاتے تو سیدھا سیدھا دیوالیہ تھا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب دنیا بھر میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر گئی اور گیس 40 ڈالر کی ہو جائے تو مشکلات بڑھی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں پہلا کام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے طور پر کرنا پڑا، اگر پوری قوم 30 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کرے اسے 80 بلین ڈالر کی امپورٹ کرنے کا حق نہیں ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا بدل گئی ہے اب ہم پرانی دنیا میں نہیں رہ رہے، ہمیں یہ پکا نہیں پتا تھا کہ ہم حکومت میں رہیں گے یا نہیں رہیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ 30 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کرنے والوں کو 80 ارب ڈالر امپورٹ کرنے کا حق نہیں ہے، چار سے پانچ ارب ڈالر کا خسارہ ہم برداشت کرسکتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دور میں ہم نے بجلی کی پیداوار دو گنا کر دی ہے، ہم نے یہاں بجلی بڑھا کر کنزیومر شادی ہالز بنائے ہیں لیکن کیا بجلی کی کیپیسٹی ڈبل کرنے سے ملک کی ایکسپورٹ ، انڈسٹری ڈبل ہوئی؟

مفتاح اسماعیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس میں کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ کا زیادہ ہونا تباہ کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری انڈسٹری کی سمت کیا ہے، پاکستان کی نیشنل سیونگ 12 فیصد ہے، ریجنل ممالک سے کم ہے، پاکستان ایک کنزمپش بیسڈ معاشرہ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ ستمبر میں امپورٹ کھولنا چاہتے تھے لیکن سیلاب آگیا، جو سیلاب سے نقصان ہوا وہ حکومت پاکستان برداشت نہیں کرسکتی، سندھ کی مکمل کپاس تباہ ہوگئی ہے،18.5 بلین ڈالر کا نقصان ہو گیا ہے، 17 لاکھ مکان تباہ ہو گئے اور 10 لاکھ جانور ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس موقع پر صدر لاہور چیمبر میاں نعمان کبیر نے کہا کہ پاکستان نے صنعت کے ہر شعبے میں ترقی کی ہے، ٹیکس کلیکشن کے نظام کو بہتر نہیں کیا جا سکا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس ایم ایز کو فنانسنگ میں بہت کم حصہ ملتا ہے، اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کا نقصان بہت زیادہ ہے، پرائیویٹائزیشن پر توجہ دی جائے۔

میاں نعمان کبیر کا کہنا تھا کہ انرجی مکس کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے، زرعی ٹیکس میں کچھ نہیں اکٹھا ہو رہا جی ڈی پی 21 فیصد ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمرشل بینکوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے، فنانسنگ کا صرف 6 فیصد ایس ایم ایز کو ملتا ہے۔

میاں نعمان کبیر نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ڈوبتی  ہوئی کشتی کو سہارا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر لاہور چیمبر میاں نعمان کبیر نے مزید کہا کہ ٹیکس بیس کو حقیقی طور پر سیاسی معاملات سے بڑھ کر بات کریں،22لاکھ لوگ کب تک عوام کو بوجھ اٹھائیں گے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.