پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے باعث بچ گیا، وزیرمملکت خزانہ
وزیرمملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے باعث بچ گیا۔
عائشہ غوث پاشا نے لاہور چیمبر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے، سیلاب کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
‘ہم مشکل فیصلے کیوں نہیں کر پاتے؟’
انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے باعث بچ گیا، کیا ہم اس طرح اپنے پاؤں پر کھڑے ہو پائیں گے؟ کیوں ہمیں 2 ڈھائی سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے؟ ہم مشکل فیصلے کیوں نہیں کر پاتے۔
عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ہمارے پاس ڈالر نہیں ہوتے لیکن خریداری کر لی جاتی ہے، اتنی ہماری امپورٹس نہیں جتنی ایکسپورٹ کر لی جاتی ہیں۔
‘ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنا ہوگا’
وزیرمملکت خزانہ نے کہا کہ ہم دنیا کی ان 10 ممالک شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ ترسیلات زر آتی ہیں، ہمیں ایکسپورٹس کو بڑھا ہو گا، ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنا ہوگا، ہمیں ریونیو اکٹھا کرنے کا دائرہ کار بڑھانا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ زراعت اور چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، ہم آئی ایم ایف کے پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ہیں، ہم سب کو پاکستان کے لیے ایک پیچ پر اکٹھا ہونا ہوگا۔
سیلاب کےباعث معاشی میدان میں سنگین صورتحال، ٹیکس ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل
سیلاب کے باعث معاشی میدان میں صورتحال سنگین ہوگئی ہے جس کے وجہ سے ٹیکس ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔
ذرائع فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر ٹیکس اہداف حاصل کرنا مشکل ہے، رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر ٹیکس ہدف 7 ہزار 470 ارب روپے ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بڑا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کیلئے مستحکم گروتھ، پالیسی اور ٹیکس اصلاحات کی ضرورت ہے، سیلاب کے باعث رواں مالی معاشی گروتھ 5 فیصد سے کم ہو کر 3.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
‘رواں مالی سال معاشی شرح نمو سست روی کا شکار ہوگی’
ذرائع کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث رواں مالی سال معاشی شرح نمو سست روی کا شکار ہو گی جبکہ ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں مشکل صورتحال سے آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
سیلاب کے باعث صنعتوں کی پیداوار اور آمدن میں کمی کا خدشہ
ذرائع ایف بی آر کے مطابق سیلاب کے باعث صنعتوں کی پیداوار اور آمدن میں کمی کا خدشہ ہے، سیلاب کے باعث انفرادی آمدن میں بھی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Comments are closed.