وزیراعظم پرالزامات کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

عدالت نے وزیراعظم پرالزامات کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے۔ 

لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں امجد شعیب کی جانب سے وزیراعظم پر الزامات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرتے ہوئے امجد شعیب کو بھی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر نوٹس جاری کر دیے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا اور درخواست گزار کی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کو فریق بنانے کی استدعا منظورکی۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزارکے مطابق امجد شعیب نے دوسرے ممالک سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی۔ عدالت نے آرٹیکل 199 کے تحت پرائیویٹ شخص کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے کا سوال اٹھایا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔

حکم نامہ  میں کہا گیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کیا کوئی قانون ایسی تقریرسے روکتا ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے معاونت کیلئے مہلت کی استدعا کی۔ آئندہ سماعت پر درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دیئے جائیں۔ کیس کی آئندہ سماعت 14ستمبر کو ہوگی۔

دوسری جانب اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قیدی پرمبینہ تشدد اوررشوت طلب کئے جانے کا انکشاف ہونے پر متاثرہ قیدی نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کے تشدد کے خلاف معزز جج کو خط لکھ دیا۔

خط کے متن کے مطابق مجھ سے 25 ہزار روپے رشوت طلب کی گئی۔ میرے پاس 4 ہزار موجود تھے انہیں دے دیے۔ 21ہزار کا دوبارہ تقاضا کیا گیا جو میرے پاس نہیں تھے۔

قیدی سلیمان نے خط میں کہا کہ مزید رقم ادا نہ کرسکنے پرمجھے ٹارچر سیل میں رکھا گیا بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

معززعدالت نے قیدی سلیمان اور ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اکرم کو طلب کرلیا۔

معززجج نے قیدی سلیمان کو اپنے نیب کورٹ کو چیک کروایا تو جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔

عدالت نے فوری طور ڈی ایچ کیو اسپتال کے ایم ایس کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا اورجیل انتظامیہ کو آرڈر کیا کہ وہ مکمل سیکیورٹی میں قیدی سلیمان کو ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچائیں۔

 قیدی سلیمان 2020 میں تھانہ آر اے بازار قتل کے مقدمہ میں حوالات میں ہے۔

کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج فرخندہ ارشد اعوان نے کی۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.