میڈیکل کالجزمیں داخلہ لینے والوں کی نارمل فیسیں لینے کی درخواستیں مسترد
سپریم کورٹ نے سیلف فنانس کے ذریعے میڈیکل کالجزمیں داخلہ لینے والوں کی نارمل فیسیں لینے کی درخواستیں مسترد کردیں۔
وکیل طلبہ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سیلف فنانس کی 76 سیٹوں کو اوپن میرٹ پر دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اب صرف فارن طلبا کو سیلف فنانس پر داخلہ دیا جائے گا۔
طلبہ کی جانب سے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو بھی سیلف فنانس پر ایم بی بی ایس میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ اب ہم سے بھی اوپن میرٹ والوں کے مطابق ہی فیس لی جائے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے سیلف فنانس کو ختم تو نہیں کیا۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ عدالت میں درخواست دینے کا بھی ایک اصول ہے ۔ حکومت کے کسی اقدام سے نقصان یا متاثر ہوں تو ہی رٹ دائر کی جا سکتی ہے۔ اس درخواست کو دائرکرنے کی تو کوئی بنیاد ہی نظر نہیں آرہی۔
جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ حکومت کے نوٹیفکیشن سے آپ کو کیا نقصان ہوا؟ اگر عدالت اس نوٹیفکیشن کو ختم بھی کردے تو ان طلبا کو کیا ملے گا۔
وکیل طلبہ نے کہا کہ نوٹیفکیشن کو ختم تو میں بھی کروانا نہیں چاہتا تھا۔ چاہتے ہیں کہ اب ہم سے بھی اوپن میرٹ والی فیس لی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ان طلبا کا داخلہ پیسوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ ان طلبہ کی تو کوئی میرٹ لسٹ بھی نہیں بنتی۔
وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا کہ اوپن میرٹ پربعض دفعہ 85 فیصد والوں کو داخلہ نہیں ملتا۔ سیلف فنانس پر35 فیصد لینے والے کو بھی داخلہ دیا گیا۔
سیلف فنانس پرآنے والے مختلف طلبا نے17 سے زائد درخواستیں ہائیکورٹ میں دائر کی تھیں۔
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
Comments are closed.