مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کی ہر قسم کی مدد کا عزم کیا گیا جس کے تحت افواج پاکستان متاثرین کی مدد میں مصروف ہے۔
ہفتہ کو اسلام آباد میں نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کے پہلے اجلاس میں شرکت کے بعد این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے سندھ، کے پی و دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، ہر افسر اور جوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے جس کے تحت ریسکیو اور ریلیف کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ جذبہ ہے جس دوران ہمارے جوان ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہوئے اور شہدائے پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں،ان کی قربانیوں کی بدولت ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے یوم دفاع کی ڈی ایچ کیومیں ہونے والی تقریب مؤخر کی ہے جبکہ آرمی کے تمام جنرل افسران نے 1 ماہ کی تنخواہ ریلیف فنڈمیں جمع کرائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک نیوی کے 19 میڈیکل کیمپس میں 10 ہزار افراد کو ریلیف دیا گیا جبکہ آرمی کی جانب سے کثیر تعداد میں خوراک اور ٹینٹس مہیا کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمراٹ اور کالام میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کر کے ریلیف کیمپ منتقل کیا گیا ہے جبکہ 1783 ٹن راشن متاثرین میں تقسیم کیا جاچکا ہے اور جہاں ضرورت ہے وہاں فوج موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئرفورس کا ایریل رسپانس خاص طور پر قابل ذکر ہے جبکہ آرمی ایوی ایشن، نیوی ہیلی کاپٹرز امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں 147 ریلیف کیمپس قائم ہیں، ان امدادی کیمپس میں 50 ہزارسے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا،250 میڈیکل کیمپس میں 83 ہزار افراد کوعلاج کی سہولت فراہم کی گئیں ہیں۔
احسن اقبال:
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا ہے جو کہ 14 جون سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا اور معمول سے زیادہ دنوں تک چلتا رہا اور جن علاقوں میں کم بارش ہوتی تھی وہاں بھی زیادہ بارش ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ تیس سال میں 500 گںا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جس میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، دس لاکھ گھر متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سپر فلڈ میں قوم نے مل کر مقابلہ کیا تھا، موجودہ المیہ بھی بہت بڑا یے جس کا حکومت یا کوئی اشارہ تنہا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے اور اس کے لئے پوری قوم یکجا ہو کر مقابلے کرے گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ کچھ علاقوں میں 1500 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ عام طور پر یہاں 20 سے 40 ملی میٹر بارش ہوتی تھی ، بارشوں اور سیلاب سے 5 ہزار کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں اور 14 بڑی شاہراہیں تباہی ہوئیں تاہم ان میں سے 11 کو مکمل بحال کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ سے سڑکوں کا بڑاحصہ متاثر ہوا ہے جبکہ پنجاب میں آبادی، فصلیں، مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ سیلابی صورتحال سے ملک بھر میں 81 گرڈ اسٹیشنز میں 69 کوبحال کردیا گیا،12 پر کام جاری ہے جلدب حال ہونگے جبکہ 123 فیڈرز پر کام جاری ہے، چند دنوں میں اس سے بھی بجلی کی ترسیل شروع ہوجائے گی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے:
چیئرمین این ڈی ایم اے اختر نواز نے کہا ہے کہ رواں سال مون سون سیزن میں ملک کو توقع سے زیادہ بارشوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ موسم گرما میں 4 ہیٹ ویوزکا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق روان سال 20 سے 25 فیصد زیادہ بارشیں ہونی تھیں لیکن 190 فیصد سے زیادہ بارشیں ہوئیںہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں سے1265افرادجاں بحق ہوئے ہیں جس میں جاں بحق افرادمیں زیادہ تعداد بچوں کی ہے ،7 لاکھ 37 ہزار مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔
Comments are closed.