مجرموں کو این آر او دوم دے کر ملک و قوم کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجرموں کو این آر او دوم دے کر ملک و قوم کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی سینیٹرز کا اہم ترین اجلاس ہوا جس میں عمران خان نے اپنے سینیٹرز کو مہنگائی کے خلاف ایوان میں آواز اٹھانے کی ہدایت دی۔

اس موقعے پر ایوانِ بالا کی کمیٹیوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، میڈیا پر بندشوں اور انتقامی کارروائیوں سے متعلق زیرِغور معاملات پر بھی خصوصی گفتگو ہوئی اور اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور معیشت کی تباہی پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں اراکینِ سینیٹ نے ملک میں انسانی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیوں اور میڈیا پر بے جا پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں خصوصاً سینیٹر سیف اللہ خان نیازی کی رہائشگاہ پر چھاپے کی شدید مذمت کی۔

اس دوران اراکینِ سینیٹ نے نیب قانون میں ترمیم کے بعد ملک کے کرپٹ ترین کرداروں کو ملنے والے این آر او اور چوروں کو ملنے والی چھوٹ پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ایوانِ بالا میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کی آئندہ کی حکمتِ عملی پر بھی مفصل بات چیت ہوئی۔

ملاقات میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود وزیراعظم کی سربراہی میں وزیروں کی بیرونِ ملک سیر اور پُرتعیش اخراجات کا بھی مفصل جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں حقیقی آزادی کی تحریک کے فیصلہ کن مرحلے کی تیاریوں، سندھ میں سیلاب متاثرین کی کسمپرسی اور سندھ حکومت کی جانب سے ان کی مدد میں ناکامی، بدترین مہنگائی، معاشی تباہی، سیاسی کارکنان کیخلاف خفیہ و اعلانیہ انتقامی کارروائیوں اور میڈیا پر بندشوں کو معاملات پوری قوت سے ایوان میں اٹھانے پر اتفاق ہوا۔

اس موقعے پر عمران خان نے کہا کہ سیاست میں غیر یقینی کی صورتحال ملک کی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے، غیر یقینی کا خاتمہ صرف اور صرف فوری الیکشن سے ہی ممکن ہے، پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو ملک کے مستقبل کیلئے سوچ رہی ہے، عوام مہنگائی سے مر رہی ہے ان کی آواز بن رہے ہیں، سینیٹ میں پی ٹی آئی کی مہنگائی مخالف آواز گونجنی چاہیے۔

پی ٹی ٓآئی چیئرمین نے کہا کہ کل رحیم یار خان میں اہم خطاب کروں گا۔

عمران خان نے کہا کہ سینیٹ میں ملک کو درپیش 4 بڑے چیلنجز کو اٹھایا جایئگا، حکومت کی جانب سے سیاسی انتقامی کارروایئوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا جائئگا، میڈیا پر کریک ڈاون اور صحافیوں کی ہراسگی کا معاملہ بھی اٹھایا جایئگا، ملکی بدترین معاشی صورتحال اور سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں ناکامی کو اجاگر کیا جائیگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مجرموں کو این آر او دوم دیکر ملک و قوم کے ساتھ سنگین اور مجرمانہ مذاق کیا گیا، قوم کے لوٹے گئے 11 سو ارب ہضم کرنے کی شرمناک اجازت دی جا رہی ہے، جس مجرم کو نجات دہندہ کہہ رہے ہیں وہ 20 ارب کا خسارہ چھوڑ کر گیا ہے، اچھی بھلی مستحکم ہوتی معیشت کو تنبیہ کے باوجود تباہی کے گھڑے میں اتار دیا گیا، غیر یقینی کی کیفیت معیشت کیلئے زہرِقاتل ہے، انتخاب کے اعلان سے اس کا تدارک ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کروڑوں پاکستانی سیلاب جیسی آفت میں گھِرے ہیں، کرائم منسٹر وزیروں سمیت قوم کا پیسہ عیاشیوں میں اڑا رہا ہے، مجرموں کو کسی طور قبول کرنے کو تیار ہوں نہ ہی قوم کرے گی، قائدین پوری یکسوئی سے تیاری کریں، کٹھ پتلیوں اور سازش کاروں کو مزید تباہی کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے، جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اپنی حقیقی آزادی اورخودمختاری کے تحفظ کیلئے فیصلہ کن کال دوں گا۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.