لاہور ہائیکورٹ؛ پنجاب پولیس کو لڑکی کی بازیابی کیلئے 11 اکتوبرتک کی مہلت

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کو لڑکی کی بازیابی کیلئے 11 اکتوبرتک کی مہلت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں لڑکی کی عدم بازیابی پرآئی جی پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

ڈی آئی جی لیگل کامران عادل، آر پی او سرگودھا اظہراکرم اور ڈی پی او سرگودھا طارق عزیز بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ڈی آئی جی لیگل نے آئی جی کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی جس پرعدالت نےپولیس کولڑکی کی بازیابی کیلئے 11 اکتوبرتک کی مہلت دے دی۔

جسٹس علی باقرنجفی نے امیرخان کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دورا وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ مدعی کی بیوی کا بھی بیٹی سے رابطہ ہے۔

عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا گیا کہ مدعی کی بیوی نےدبئی میں موجود بیٹی سے رقم وصول کی۔

ڈی پی او سرگودھا نے بتایا کہ لڑکی کے باپ کوبلوا کر ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کیا ہے۔

جسٹس علی باقرنجفی نے درخواست گزارسے استفسارکیا کہ کیا بیٹی سے رابطے میں ہیں؟جس پر درخواست گزار نے جواب دیا کہ جھوٹ بولوں تو اللہ کی لعنت، سرگودھا سےفون آئے تھے۔

عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا بیٹی سے پیسےوصول کیے؟ جس پردرخواست گزار کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

عدالت نے کہا کہ پولیس نے لڑکی کی بازیابی کیلئے کیااقدامات اٹھائے؟ ڈی پی او نے جواب دیا کہ 120 افراد کوشامل تفتیش کیا، 288 افراد کا ڈیٹا حاصل کیا۔

عدالت نے پوچھا کہ آئی جی نے واقعات کی روک تھام پرکیا اقدامات اٹھائے؟

ڈی آئی جی لیگل نے جواب دیا کہ واقعات کی روک تھام کیلئےایس او پیز بنائےہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت11اکتوبرتک ملتوی کردی۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.