فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اورنیپرا کیخلاف درخواستوں پروکلا سے تحریری دلائل طلب

لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اورنیپرا کیخلاف درخواستوں پروکلا سے تحریری دلائل طلب کرلیے۔

تفصیلات کے مطابق لاہورچیمبر آف کامرس اوردیگر کی بجلی بلوں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور نیپرا کیخلاف درخواستوں پرلاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

عدالت نے درخواست گزارکے وکلا سے کل تحریری دلائل طلب کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا کی تشکیل سے متعلق ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔

وکلا نے جواب دیا کہ عدالت کیس پر تفصیلی فیصلہ جاری کرکے مسئلہ کو مستقل حل کرے۔ یہ دیکھا جائے کہ کے الیکٹرک پرائیویٹ کمپنی لیکن 600 میگاواٹ نیشنل گرڈ سے بجلی لیتی ہے۔

درخواست گزار کے وکلا نے مؤقف پیش کیا کہ کے الیکٹرک کو فراہم کی جانیوالی 600 میگاواٹ بجلی کی قیمت بھی ہم سے وصولی جاتی ہے۔ نیپرا کی تشکیل مکمل نہ ہونے کے باوجود قیمتیں بڑھانا غیرقانونی ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے لاہور چیمبر اور ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کی۔

بیرسٹر عمر ریاض نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار صنعتی شعبے کی بڑی نمائندہ تنظیمیں ہیں اور مؤقف پیش کیا کہ  وفاقی حکومت نے نمائندہ تنظیموں کی مشاورت کے بغیر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بلوں میں عائد کیا۔ صنعتی شعبے سے 2018 سے 2021 تک بجلی بلوں میں ایف سی سرچارج کیا جارہا ہے۔

درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بغیر طریقہ کار وضع کیے بغیر وصول کرنا خلاف قانون ہے۔ نیپرا کا انتظامی لائن لاسز صارفین سے وصول کرنا بھی قانون کی منشاء کیخلاف ہے۔  صنعتی شعبہ کی لاگت پہلے ہی بہت بڑھ چکی مزید ٹیکس سے نقصان ہوگا، تنازعات کے حل کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایپلٹ ٹربیونلز کو بھی فعال نہیں کیا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے نیپرا کو فعال کردار ادا کرنے کا حکم دے۔ عدالت 2018 تا 2022 غیر قانونی وصول کیا گیا ایف سی سرچارج واپس کرنے کا حکم دے۔

درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ عدالت صارفین کی مشاورت سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ وصولی کا میکنزم بنانے اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وصولی سے روکنے کا حکم دے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.