عمران خان پردہشتگردی کی دفعہ نہیں لگ سکتی، ہائیکورٹ کے فیصلے کا متن

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے متن کے مطابق عمران خان پردہشتگردی کی دفعہ نہیں لگ سکتی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دہشتگردی کے مقدمہ کے اخراج کیلئے دائر رٹ پٹیشن جزوی طور پرمنظور کرنے کاتحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس ثمن رفعت پرمشتمل ڈویژن بینچ نے ایک صفحہ پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے تحریرکردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے غلام حسین و دیگر بنام ریاست کیس میں طے کئے گئے اصولوں کی روشنی میں عمران خان کے خلاف درج ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی قانون کی شق سات (7ATA)نہیں لگائی جاسکتی، تاہم مجموعہ ضابطہ فوجداری قانون کی شق 188،506,504اور189کے ذمرے میں آنے والے جرائم کا معاملہ قانون کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔ اس لئے یہ معاملہ اس مجازعدالت کو بھجوایا جائے گا جس کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں نوٹ کیا ہے کہ ہائیکورٹ کا یہ حکم کسی صورت بھی درخواست گزارعمران خان کوقانون کے تحت حاصل ریمیڈیزحاصل کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہوگا۔

دوران سماعت درخواست گزار عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان صفدر، محمد شعیب شاہین، سید قمبرعباس شاہ، انتظارپنجوتھا، کلثوم خالق، محمد علی بخاری، مرتضی حسین طور، مظہرعلی حیدر، فہد ارسلان، عمیراشرف ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

اسپیشل پراسیکیوٹرراجا رضوان عباسی، اسٹیٹ کونسل جمیل فیاض اور ربیع بن طارق، لاء افسر اسلام آباد پولیس طاہر کاظم، انسپکٹر لیگل محمدریاض اور تفتیشی افسرمحمدعلی ریکارڈ سمیت پیش ہوئے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.