عدالت عظمی کا غیر معمولی عدالتی سال انجام کو پہنچ گیا
اسلام آباد( عابد علی آرائیں ) عدالت عظمی کا غیر معمولی عدالتی سال آج گیارہ ستمبر 2022کواپنے انجام کو پہنچ گیا۔
سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کا آغاز کل 12ستمبرسے ہوگا ، اس موقع پر چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوگا جس سے چیف جسٹس پاکستان، اٹارنی جنرل ،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور صدر سپریم کورٹ بار خطاب کرینگے۔
گذشتہ عدالتی سال 2021ـ22 اہم کارروائیوں، گہما گہمی اور کئی حوالوں سے بہت اہم سال رہا۔
عدالت عظمیٰ نے مفاد عامہ کے کئی اہم مقدموں کے فیصلے دیئے،عدالت عظمی کے اہم فیصلوں سے وفاقی اور پنجاب کی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور رات کے بارہ بجے عدالت لگی۔
ان واقعات اور فیصلوں کی گونج کئی سال تک سنائی دے گیـسپریم کورٹ میں عدالتی چھٹیاں 11ستمبر2022کو ختم ہونے کے بعد نئے عدالتی سال کا آغاز 12ستمبر کوہوگا۔
نئے سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس کمرہ عدالت نمبرایک میں ہوگا۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت میں سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 51240 رہ گئی ،یہ تعداد31 جنوری کو 53ہزار964 تھی۔
چھٹیوں کے باوجود سپریم کورٹ نے15 روز میں 1384 مقدمات نمٹائے۔
تازہ اعداو شمار کے مطابق عدالت عظمی نے پندرہ اگست سے 31اگست تک 3184مقدمات نمٹائے ، عدالت عظمی میں سب سے زیادہ 27ہزار726آئینی درخواستیں زیر التوا ہیں جبکہ 9ہزار 537دیوانی مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بارہ سال سے زیر التوا واحد ریفرنس ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی بھی گذشتہ کئی سال سے سماعت نہیں ہوسکی۔
اعداو شمار کے مطابق سزائے موت و عمر قید کے قیدیوں کی طرف سے جیلوں سے بھجوائی گئی2902 اپیلیں بھی سماعت کی منتظر ہیں۔
اس رپورٹ میں عدالت عظمیٰ کے عدالتی سال 2021ـ22 کے چند اہم فیصلوں، واقعات اور زیر سماعت درخواستوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری رولنگ پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس و فیصلہ
3 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی، تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لیا اور پانچ روز سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نت سماعت کی جس کے بعد 07 اپریل کو از خو د نوٹس کا متفقہ فیصلہ سنایا گیا۔
فیصلے کے اہم نکات؛
اسپیکر رولنگ کیس کا فیصلہ پانچ صفر سے متفقہ طور پر سنایا گیا۔
ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور صدر مملکت کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنا غیر آئینی قرار
قومی اسمبلی کو بحال کردیا گیا اوراس کا اجلاس 9 اپریل کو بلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ووٹنگ کرائے بغیر اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کرنے کا حکم
تحریک عدم اعتماد منظور ہونے پر قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کو منتخب کرے گی۔
تحریک عدم اعتماد ناکام ہو تو حکومت اپنے امور انجام دیتی رہے گی۔
نگران حکومت کے تمام احکامات کالعدم قرار دے دیئے گئے۔ کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکنے کا حکم دیا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کو عہدوں پر بحال کرنے کا حکم دیا۔
رات بارہ بجے عدالت عظمیٰ کھلی
9 اپریل 2022 کو جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی صبح دس بجے اجلاس شروع ہونے کے باوجود رات دس بجے تک جب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ووٹنگ نہیں کرائی اور ملک اس وقت انتہائی غیر یقینی کی صورتحال سے گزررہا تھا تو سپریم کورٹ کے دروازے کھولے گئے اور شیف جسٹس ساتھی ججز کے ساتھ عدالت عظمیٰ پہنچے تھے۔
عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان متعدد باراپنے جلسوں یہ سوالات اٹھا چکے ہیں کہ رات کو عدالتیں کیوں کھولی گئی تھیں۔
سپریم کورٹ کا آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ
17مئی 2022 کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے تین دو کے اکثریتی فیصلے میں کہا کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا اور پارلیمان ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے منحرف اراکین سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔
بینچ کے ارکان جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے بنچ کے تین ارکان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے اقلیتی فیصلے میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اپنے آپ میں ایک مکمل کوڈ ہے جو پارلیمان کے کسی رکن کی ‘ڈیفیکشن’ یعنی انحراف اور اس کے بعد کے اقدام کے بارے میں جامع طریقہ کار بیان کرتا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیس
26 جولائی 2022 کو سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے مسلم لیگ(ق) کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ رد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی کو نیا وزیراعلیٰ قرار دیا۔
چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پرویز الہٰی کی درخواست منظور کی جاتی ہے اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے اور آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح درست نہیں کی گئی اس لیے یہ برقرار نہیں رہ سکتی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی آڈیو جاری
28 جولائی 2022 کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں نئے ججز کی تعیناتی کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس ہوا جو مختلف تنازعات کا شکار رہا۔
اجلاس کے بعد مختلف ارکان نے چیف جسٹس کو خطوط لکھے۔ 29 جولائی 2022 کو جوڈیشل کمیشن اجلاس کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کردی گئی۔
سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کی تقرری
6 جنوری 2021 کو پاکستان کی سپریم کورٹ میں پہلی بار ایک خاتون جج جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے اِس کی منظوری دی گئی تھی۔
55 سالہ جسٹس عائشہ اے ملک 2012 سے لاہور ہائی کورٹ میں جج تعینات تھیں۔وہ آئینی، بینکنگ، ٹیکس اور انسان حقوق کے امور پر دسترس رکھتی ہیں۔
سانحہ اے پی ایس کیس میں عمران خان کی پیشی
10نومبر 2021 کے روز سانحہ اے پی ایس کیس میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے مختصر نوٹس پر عدالت میں پیش ہوئے اور واقعے کے ذمہ داروں سمیت غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
سابقہ وزیراعظم کو ججز کے سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، بطور وزیراعظم عمران خان کی عدالت میں یہ پہلی پیشی تھی اور وہ بھی مفاد عامہ کے کیس میں عدالت نے طلب کیا تھا۔
سرکاری ملازمین بحالی کیس
17 دسمبر 2021 کوسپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ایکٹ کے تحت 16 ہزار ملازمین کی بحالی کے قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غلط قانون بنا کر ریگولر ملازمین کی حق تلفی کی گئی لیکن بعد ازاں نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ دیا کہ گریڈ ایک سے سات ملازمین بحال جب کہ گریڈ آٹھ سے اوپر والے ادارتی ٹیسٹ دیں گے۔
اس کے علاوہ وہ ملازمین جو کرپشن، بد عنوانی، غیر حاضری وغیرہ پر نکالے گئے ہیں وہ برطرف ہی ہوں گے۔
نسلہ ٹاور کیس کا فیصلہ
27 دسمبر 2021 کو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی کے نسلہ ٹاور کی 780 مربع گز زمین ضبط کرنے، ٹاور کو ایک ہفتے میں مکمل گرانے اور اس کا بلڈنگ پلان منظور کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔
تجوری ہائٹس کیس کا فیصلہ
12 نومبر 2021 کو سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی پر زیر تعمیر کثیر المنزلہ عمارت ‘تجوری ہائٹس’ کو بھی گرانے کا فیصلہ سنایا تھا۔
اس کے علاوہ کراچی میں کے ڈی اے کلب، سکواش کورٹ، الہ دین سے متصل شاپنگ سنٹر، پویلین کلب اورغیرقانونی شادی ہالز بھی گرانے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے کہا رفاہی پلاٹوں اور رہائشی علاقوں میں قائم شادی ہالز ختم کیے جائیں۔
سندھ بلدیاتی اداروں کے اختیارات سے متعلق فیصلہ
یکم فروری 2022 کو اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے اپنے آخری کیس کا فیصلہ سنایا جس میں سندھ لوکل باڈیز ترمیمی ایکٹ کی شق 74 اور 75 کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ قانون کی آرٹیکل 140 اے سے ہم آہنگی یقینی بنائی جائے۔
شق نمبر 74 کے تحت صوبائی حکومت مقامی حکومت کے کسی بھی ادارے کو اپنے انتظام میں لی سکتی ہے یا واپس بھی کرسکتی ہے جبکہ شق نمبر 75 کے تحت حکومت کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی سربراہی کر سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے اور بلدیاتی حکومت کے تحت آنے والا کوئی نیا منصوبہ صوبائی حکومت شروع نہیں کر سکتی۔
سندھ حکومت نے 2013 کے بلدیاتی قانون میں ترامیم کی تھیں، جس کے بعد کئی سیاسی پارٹیوں نے قانون کے خلاف احتجاج کیا اور پی ٹی آئی، متحدہ قومی موومنٹ، پاک سر زمین پارٹی اور جماعت اسلامی نے اس قانون کو سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا۔
زیر سماعت اہم مقدمات
تفتیشی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس
16 مئی 2022 کو پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں مبینہ طور پر حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس لیا۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے مطابق چیف جسٹس نے یہ از خود نوٹس سپریم کورٹ کے جج مظاہر علی نقوی کے نوٹ پر لیا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسران کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور انھیں ٹرانسفر کرنے سے متعلق جج نے نوٹ میں نشاندہی کی تھی۔
جج کے نوٹ میں کہا گیا کہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز افراد مبینہ طور پر فوجداری معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور اس مداخلت سے پراسیکیوشن کے معاملات پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ ثبوتوں میں ردوبدل اور شہادتیں غائب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب اختر،جسٹس میاں مظہر عالم اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل ہیں۔ تاہم یہ از خود نوٹس ابھی زیر سماعت ہے۔
نئی نیب ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج
25 جون 2022 کو سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین میں حالیہ ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔
پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے نیب ترامیم کے خلاف آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت عدالت میں اپیل دائر کی ہے جس میں وفاق اور نیب کو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نیب قانون کے سیکشن 5، 4، 2، 26، 6، 15، 14، 21، 23 میں کی گئیں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔
تحریک انصاف نے درخواست میں مطالبہ کیا کہ نیب قوانین میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19 اے، 24 اور 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں اس لئے انہیں کالعدم قرار دیا جائے تاہم عمران خان کی یہ درخواست ابھی زیر سماعت ہے۔
Comments are closed.