زراعت کا شعبہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، خالد خورشید
خالد خورشید نے کہا ہے کہ زراعت کا شعبہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے زراعت، لائیو سٹاک اور ڈیری کے فروغ کیلئے وزیر اعلیٰ کا بلاک الوکیشن سے 75 کروڑ لاگت کے منصوبے کے ورک پلان کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بروقت زرعی شعبے پر توجہ دینا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت زراعت، لائیو سٹاک، ڈیری اورفشریز کے فروغ کیلئے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے، نئے اصلاحات اور منصوبوں سے مقامی زمینداروں اور لائیو سٹاک سے منسلک متوسط طبقے کی زندگی میں خوشحالی آئے گی اور فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے صوبائی سیکریٹری زراعت کو ہدایت کی کہ زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں خود کفالت کی منزل کو حاصل کرنے کے ویژن کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے منظور کئے جانے والے منصوبوں پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے صوبائی سیکریٹری زراعت کو ہدایت کی کہ مقامی کسانوں کی مشاورت سے گندم کے سپورٹ پرائس کا تعین کریں، حکومت مقامی کسانوں سے گندم کی خریداری کرے گی تاکہ گندم کاشت کرنے والے کسانو ں کی حوصلہ افزائی ہو جبکہ سبزیوں، لائیو سٹاک اور گندم کی پیداوار میں اضافے کیلئے مقامی کسانوں کو بھی بھرپور سہولیات فراہم کریں گے۔
خالد خورشید نے مزید کہا کہ زراعت کا شعبہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، محکمہ کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے سٹیرنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، ماضی میں اس اہم شعبے کو نظرانداز کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے محکمہ زراعت و لائیو سٹاک پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے محکمے کو درکار وسائل فراہم کئے ہیں، صوبائی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے ان نئے اصلاحات اور منصوبوں کے ثمرات سامنے آئیں گے۔
خالد خورشید کے بلاک الوکیشن سے منظور کئے جانے والے منصوبے کے تحت مقامی زمینداروں اور کسانوں کو جدید بیج، سبزیوں کے فروغ کیلئے ٹنلز کی فراہمی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے مزید کہا کہ جن لوگوں کا سیلاب میں لائیوسٹاک کا نقصان ہوا ہے ان میں لائیوسٹاک کی فراہمی، مقامی زمینداروں کی معاونت اور تربیت کیلئے خصوصی منصوبے بھی شامل ہیں۔
Comments are closed.