بجلی کے بلوں سے ناجائز چارجز ختم نہ کیے توعوام بل ادا نہیں کرینگے، نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں سے ناجائز چارجز ختم نہ کیے توعوام بل ادا نہیں کرینگے
حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دو تین اہم مسئلوں پر بات کرنی ہے، بجلی کے بلوں میں شدید اضافہ ہے، ڈیوٹیز اور چارجز نے جینا دوبھر کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹریسٹی چارجز، یونیفارم، ٹیرف فیول ایڈجٹمنٹ کا معاملہ ہے، میونسپل چارجز دو ہزار چار میں ایم کیو ایم کی حکومت ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ 2004 تک نعمت اللہ خان نے کوئی چارجز نہیں لگائے تھی، انہوں نے اپنی محنت دیانت داری سے کے ایم سی ٹیکس ریکوری میں اضافہ کیا، نتیجے میں کراچی میں ڈویلپمنٹ بڑھتی گئی۔
‘بجلی کے بلوں میں ناجائز ٹیکس کو فوری ختم کیا جائے’
نعیم الرحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سائن بورڈ کا کام چل رہا ہے، کراچی میں سائن بورڈز سے کرورڑوں روپے کمائے جارہے ہیں، اس ماہانہ آمدنی کو اپنی جیبوں میں ڈالا جارہا ہے، کراچی کے عوام پر بجلی کے بلوں میں چارجز لگا کر دینا زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں سے ناجائز چارجز ختم نہ کیے توعوام بل ادا نہیں کرینگے، بجلی کے بلوں میں ناجائز ٹیکس کو فوری ختم کیا جائے، کراچی میں ہمیشہ سے موٹروہیکل ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
‘کوئی پارٹی کےالیکٹرک کیخلاف کچھ نہیں بول رہی’
حافظ نعیم نے کہا کہ میں مانتا ہوں کراچی کے لوگوں نے بہت دھوکے کھائے ہیں، اس وقت بھی کےالیکٹرک کے خلاف کوئی نہیں بول رہا، نہ پی ٹی آئی، نہ ن لیگ، نہ پیپلز پارٹی کوئی بات کررہی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ اگر آپ کے ووٹ لے کر یہ ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کا ساتھ دیتی ہیں، ایسے افراد آپ کے پاس کمپین لے کر آئے تو ان کو آئینہ دکھائیں، یہ کیوں مافیا بنا ہے؟ کیونکہ تمام حکومتوں نے اسے سپورٹ کیا ہے۔
‘ہم نے ہمیشہ کے الیکٹرک کے خلاف تحریک چلائی ہے’
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کے الیکٹرک کے خلاف تحریک چلائی ہے، ہمارا کوئی نمائندہ شہر یا مرکز میں نہیں ہے، ہم اس کے باوجود کراچی میں مقدمہ لڑرہے ہیں، کل سے ہم عوامی ریفرنڈم شروع کررہے ہیں۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ میونسپل چارجز ختم ہونے چاہئیں، دوسرا مطالبہ یہ کہ کے الیکٹرک کا آڈٹ ہونا چاہیے، تیسرا یہ کہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر جو بھتہ وصول کیا جارہا ہے اسے ختم کیا جائے اور چوتھا پوائنٹ یہ ہے کہ معاہدے میں کلابیک کی مد میں 50 ارب روپے واپس ہونا چاہیے۔
Comments are closed.