اس وقت باتیں نہیں عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کی بنا پر اس وقت باتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بے پناہ ناانصافی ہوئی ہے جس کا ازالہ ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں میں یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کا دورہ کیا جس دوران انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ازخود جائزہ لیا ۔
انہوں نے بتایا کہ یو این سیکریٹری جنرل نے اس بات کو واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا زیادہ حصہ نہیں ہے لیکن پھر بھی پاکستان نے اس صورتحال کا شکار ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یو این سیکریٹری جنرل نے موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار گلوبل نارتھ کو ٹہرایا اور دو ٹوک انداز میں بات کی کہ انہیں اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ انتونیو گوتریس نے اپنے دورے کے دوران دلوں کو ہلا دینے والی باتیں اور ترجمانی کی جو کہ شاید ہی کسی ذمہ دار شخص نے آج تک کی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ انتونیو گوتریس نے اس بات کو اجاگر کیا کہ خالی ہمدردی یا یکجہتی کی باتیں کافی نہیں ہیں بلکہ عملی طور پر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے علم میں ہے کہ کون کون فیلڈ میں کام کرہا ہے کیونکہ یہ زمانہ ڈیجیٹل دور کا ہے جہاں ایک کلک کی مدد سے آپ پوری دنیا سے رابطہ کر سکتے ہیں وہی یہ وقت ہے کہ آپ دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے بھی اپنا وقت دیں۔
اس موقع پر انہوں نے فیلڈ میں کام کرنے والے تمام وفاقی وزراء کو سلام پیش کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وہی دوسری جانب وزیراعظم نے دیگر وزراء سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس کام کے لئے آگے بڑھیں عوام کی مدد کے لئے آگے جائیں کیونکہ لوگ اس موقع کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ کون آیا اور کون نہیں۔
وزیراعظم نے اپنی گفتگو کے اختتام پر امید ظاہر کی ہے کہ سیلابی علاقوں سے پانی آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں اتر جائیگا اور لوگ اپنے گھروں میں دوبارہآباد ہونا شروع ہوجائیں گے۔
Comments are closed.