اب تک 20 ارب روپے سے زائد کی رقم سیلاب زدگان میں تقسیم کر چکے ہیں، وزیر اعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب تک 20 ارب روپے سے زائد کی رقم سیلاب زدگان میں تقسیم کر چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دورہ کیا، 2010 میں آنے والے سیلاب سے زیادہ نقصان جنوبی پنجاب میں ہوا تھا پر اب سیلاب سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہوا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ سیلاب سے بہت زیادہ تباہی ہوئی، آج بھی سندھ کے شہر اور دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، سندھ میں ہزاروں دیہات ڈوب چکے ہیں، ہر طرف پانی ہی پانی ہے، اب بھی کہیں کہیں صرف گھروں کی چھت ہی نظر آتی ہے۔

سیلاب کے باعث 1300 سے زائد افراد اللہ کو پیارے ہو گئے

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث 1300 سے زائد افراد اللہ کو پیارے ہو گئے، سیلاب کے باعث 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، ہم نے 28 ارب روپے کا تخمینہ لگایا تھا جس کے تحت 25 ہزار روپے فی خاندان کو ملنا تھا، شفافیت کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت فنڈز تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا، اب تک 20 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، سندھ کے بعد زیادہ تباہی بلوچستان میں ہوئی، کچھ دن پہلے ہمیں اندازہ ہوا کہ تباہی ہماری سوچ سے زیادہ ہوئی ہے، امدادی رقم کو بڑھاتے ہوئے 70 ارب روپے تک کر دیا، یہ تمام رقم وفاقی حکومت دے رہی ہے، وفاق 10، 10 لاکھ روپے ان گھرانوں کو دے رہا ہے جن کے پیارے چلے گئے ہیں۔

ترکی سے ٹرین امدادی سامان لے کر چل پڑی ہے

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اب تک 80 فیصد گھرانوں کو 10، 10 لاکھ روپے دیئے جا چکے ہیں، دوست ممالک سے بھی امدادی سامان پہنچ رہا ہے، قطر اور ترکی سے امدادی سامان کے جہاز آئے ہیں، اب ترکی سے ٹرین امدادی سامان لے کر چل پڑی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ انسانی حد تک پوری کوشش جاری ہے، این ڈی ایم اے امدادی سرگرمیوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے، امدادی سرگرمیوں میں کہیں بھی سیاسی اختلافات کا سایہ تک نہیں ہے، موجودہ حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم سیاست کو ایک طرف رکھ دیں، ہم سیاست کو ایک طرف رکھ کر خدمت کے اس فرض کو نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی حد تک وفاقی و صوبائی حکومتیں اور افواج پاکستان سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں، ریسکیو کا عمل اب بھی جاری ہے، مشکلات کے باوجود ٹرانسپورٹ کا نیٹ ورک بن چکا ہے، انفراسٹرکچر کی تباہی سے ملکی معیشت کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

ہم سب مل کر سیلاب کی اس تباہی سے لڑیں گے

ان کا کہنا تھا کہ بحالی کے کاموں پر اربوں کھربوں روپے خرچ ہوں گے، دن رات ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، قوم ڈوب رہی ہے تو عمل ریاست مدینہ کے الٹ ہے، اگر قوم اکٹھی ہو گئی تو ہم بڑے سے بڑا چیلنج عبور کر جائیں گے، ہم سب مل کر سیلاب کی اس تباہی سے لڑیں گے۔

Best Car Accident Lawyer

Comments are closed.