‏پاکستان پیپلز پارٹی کا مظفر آباد میں جلسہ عام، تا حد نگاہ جلسہ گاہ میں عوام کا سمندر

51

جلسہ عام، تا حد نگاہ جلسہ گاہ میں عوام کا سمندرآزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی دبنگ انٹری

 

پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کشمیر کے عوام اور کشمیر میں جمہوریت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

کشمیر جنت نظیر ہے اور کشمیر بینظیر ہے
ہمارا کشمیری عوام سے تین نسلوں کا رشتہ ہے۔ ہم نے کشمیر کی محبت وراثت میں پائی ہے۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ کشمیر کی خوشحالی کے لئے کام کیا ہے۔ پیپلزپارٹی ماضی میں کشمیر کے ساتھ تھی آج بھی کشمیر کے ساتھ ہے اور مستقبل میں کشمیر کے ساتھ رہے گی۔ پیپلزپارٹی کے کارکن گھر گھر جائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ ہم عوام کے حقوق کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

25 جولائی کو ہر مرد، خاتون اور بزرگ گھر سے باہر نکلے اور پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دے تیر آپ کا نشان ہے، خوشحالی کا نشان ہے، کشمیر کا نشان ہے اور بینظیر کا نشان ہے۔ مجھے کشمیر آکر بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ کشمیریوں سے مجھے جو محبت ملی ہے وہ اسے کبھی بھی نہیں بھول سکتیں۔ کشمیر ان کے دل کے اس لئے قریب ہے کہ ان کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلزپارٹی کی بنیاد کشمیر کے ایشو پر رکھی تھی اور ان کی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو دنیا بھر میں کشمیر کی آواز تھیں۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ کشمیریوں کے لئے کام کیا ہے اور میرے والد صدر آصف علی زرداری نے کشمیر کو ترقی دی اور اب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کشمیر کی آواز بنیں گے اور کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔

اکچھ لوگ کشمیر آکر بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں لیکن جب مودی نے کشمیر پر حملہ کیا تو وہ صرف یہ کہہ سکے کہ “میں کیا کروں؟” شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جہاں کشمیروں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر کشمیری امن چاہتے ہیں تو امن ہوگا اور اگر وہ جنگ چاہتے ہیں تو جنگ ہوگی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی نے دل، کینسر، جگر اور گردے کے ہسپتال بنائے ہیں جہاں عوام کا علاج مفت ہوتا ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت خواتین کو بلاسود قرضے فراہم کر رہی ہے۔

پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر کے تین شہروں میرپور، پونچھ اور مظفرآباد میں تین میڈیکل کالج قائم کئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں چھ یونیورسٹیاں بنائی ہیں اور انفراسٹرکچر بنایا ہے۔ پیپلزپارٹی کا عوام دوست اور غریب دوست جس میں تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی کے منصوبے شامل ہیں۔ چیئرمین بلاول نے جتنے وعدے کئے ہیں وہ سب پورے کریں گے۔ کارکن پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کا پیغام لے کر گھر گھر جائیں میں امید کرتی ہوں کہ جس طرح کشمیریوں نے میرے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو، ان کی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے والد صدر آصف علی زرداری کا ساتھ دیا اسی طرح وہ اب بلاول بھٹو کا ساتھ دیں گے اور بلاول بھٹو زرداری کا ساتھ دے کر اس تبدیلی والے کو بھگائیں گے اور اس کے ساتھ ہی مودی بھی بھگائیں گے۔ آپ 25 جولائی کو باہر نکلیں تیر پر ٹھپہ لگائیں کیونکہ کشمیر ہی کشمیریوں کا نشان ہے۔

Comments are closed.

Translate »