کوٹری شہر میں ابھی تک اونچے درجے کا سیلاب ہے، مراد علی شاہ
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کوٹری شہر میں ابھی تک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری آبپاشی سہیل قریشی نے بریفنگ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوٹڑی بیراج پر پانی 6 لاکھ 62 ہزار 193 کیوسک سے کم ہو کر 6 لاکھ 20 ہزار 95 کیوسک ہو گیا ہے۔
اجلاس کے دوران مراد علی شاہ کو آگاہی دی گئی کہ شہداد کوٹ ڈرین میں شگاف پڑا تھا اس کو بند کیا جا رہا ہے، آر ڈی 194 سے ایم این وی میں واپس پانی ڈائیورٹ کیا جا رہا ہے۔
امدادی سامان کی تقسیم سے متعلق بریفنگ میں مشیر محکمہ ریلیف رسول بخش چانڈیو نے کہا کہ 10 ستمبر تک ایک لاکھ 83 ہزار 424 خیمے تقسیم کیے ہیں، مزید 9 ہزار 945 خیمے آنے ہیں، ایک لاکھ 45 ہزار 90 ترپال تقسیم کیے ہیں، مزید 60 ہزار ترپال اگلے دو دنوں میں آجائیں گے، صوبے بھر میں سیلاب متاثرین میں 13 لاکھ 85 ہزار 105 مچھر دانیاں تقسیم ہو چکی ہیں، 1 لاکھ 74 ہزار 600 مچھر دانیاں مزید آرہی ہیں۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ کل تک 3 لاکھ ایک ہزار 60 راشن بیگز تقسیم ہو چکے ہیں اور مزید 21 ہزار 640 راشن بیگز آرہے ہیں، متاثرین میں 2 لاکھ 2 ہزار 111 لیٹر صاف پینے کا پانی متاثرین کو پہنچایا گیا ہے؛ یہ رلیف کا سامان کراچی ڈویژن کے 2 اضلاع، حیدرآباد ڈویژن کے 10 اضلاع، لاڑکانہ ڈویژن کے 5 اضلاع، سکھر ڈویژن کے 3 اضلاع، شہید بینظیر آباد ڈویژن کے 3 اضلاع اور میرپورخاص ڈویژن کے 3 اضلاع میں پہنچایا گیا ہے۔
وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بریفنگ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے مختلف کیمپوں میں 13 لاکھ 63 ہزار 312 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے؛ گیسٹرو کے 28 فیصد، جلد کے 27 فیصد، ڈینگی اور ملیریا کے 7 فیصد اور دیگر بیماریوں کے 38 فیصد مریضوں کا علاج ہوا ہے، کیمپوں میں 5636 حاملہ خواتین بھی ہیں، 5636 حاملہ خواتین میں 439 ڈلیوری کے قریب ہیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ ہم تمام حاملہ خواتین کو رجسٹر کر رہے ہیں، ان خواتین کو نہ صرف علاج بلکہ سپلیمینٹس بھی دیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کوٹری میں ابھی تک اونچے درجے کا سیلاب ہے، دادو کے مورو پل پر یکم ستمبر کو 130 آر ایل لیول تھی جو اب 128.30 آر ایل ہے، منچھر جھیل کی سطح یکم ستمبر کو 120.90 آر ایل تھی اور اب 122.80 آر ایل ہے، منچھر پر 122.50 آر ایل تھا اب پانی بڑھ کر 122.80 آر ایل ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف ڈرین سے منچھر میں پانی جانے سے جھیل کی سطح بڑھ رہی ہے، منچھر جھیل سے 97 ہزار 17 کیوسک دریائے سندھ میں بہنا شروع ہو گیا ہے، اس سے منچھر کی سطح کل تک کچھ کم ہونے کی امید ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء، ڈاکٹر عذرا پیچوہو، منظور وسان، شرجیل میمن، ناصر شاہ، باری پتافی، عباس شاہ، مرتضیٰ وہاب، رسول بخش چانڈیو، پرنسپل سیکریٹری، کمشنر کراچی، کورپس ہیڈ کوارٹر کے نمائندے شریک ہوئے۔
Comments are closed.