بول نیوز اور بول انترٹینمنٹ کی بندش کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج
خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر پشاور کے صحافیوں نے بول نیوز اور بول انترٹینمنٹ کی بندش کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
احتجاجی مظاہرے کے دوران صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں نے بول کی نشریات فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھارکھے تھے پر جن پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرین سے پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، کے ایچ یوجے کے صدر ناصر حسین، جنرل سیکرٹری عمران یوسف زئی اور بول نیوز کے ڈائریکٹر نیوز ظاہر شاہ شیرازی نے خطاب کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ کسی بھی ٹی وی چینل اور اخبار پر پابندی آئین پاکستان کے منافی ہے، بول کی بندش سے ہزاروں صحافیوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کی صحافی برادری اظہار رائتے کی اپنی آزادی کا دفاع کرنے کے لئے متحد ہے۔
بول کو بولنے دو، امپورٹڈ حکومت نے بول کو بند کردیا
امپورٹڈ حکومت کا آزادی صحافت پر وار، حق اور سچ بتانے پر بول ٹی وی اور بول انٹرٹینمنٹ کی نشریات پر پابندی لگا دی گئی۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کی جانب سے بول کی نشریات بند کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا،عوام اور صحافتی حلقے مطالبہ کررہے ہیں کہ بول کو بولنے دو۔
چند گھنٹوں کی بندش سے دل نہ بھرا تو امپورٹڈ حکومت نے مستقل بنیادوں پر پابندی لگا دی۔
بول نے عمران خان کے ساتھ ساتھ سب کے جلسوں کو کوریج دی اور عمران خان کی آواز سب تک پہنچائی لیکن یہی بات امپورٹڈ حکومت کو پسند نہ آئی اس لئے انہوں حق اور سچ کی آواز پر تالا لگا دیا۔
عمران خان کے جلسوں کے دوران بول دو دو گھنٹے بند کیا جاتا رہا لیکن اب پیمرا نے مکمل بندش کا حکم دیدیا۔
بول حق کے ساتھ پہلے کی طرح ہمیشہ کھڑا رہے گا، بول جھکے گا نہیں ڈرے گا نہیں اور سچائی کے بول بولتا رہے گا۔
Comments are closed.